کیا پاکستان کی افغان پالیسی تبدیلی ہو رہی ہے؟ دفترخارجہ نے واضح کردیا

کیا پاکستان کی افغان پالیسی تبدیلی ہو رہی ہے؟ دفترخارجہ نے واضح کردیا

Pakistan SCO Summit 2026

دفتر خارجہ نے افغان پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کابل کے حوالے سے پاکستان کے سرکاری مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

حالیہ دنوں میں افغان وزیر خارجہ سراج حقانی کی جانب سے تمام امور پر مذاکرات کی پیشکش اور افغان سفیر کو این ڈی یو میں بطورِ مہمان خطاب کی دعوت دینے پر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی تھیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی بڑی پیش رفت یا نرمی آ رہی ہے۔

سرکاری ذرائع نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس قسم کے تعلیمی روابط کو خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار دینا بالکل درست نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفیروں کا پاکستان کے تعلیمی یا دفاعی اداروں میں آکر لیکچرز دینا یا بات چیت کرنا کوئی انوکھا یا نیا عمل نہیں ہے، ماضی میں بھارتی ہائی کمشنر کو بھی این ڈی یو میں اس طرح کی دعوت دی جا چکی ہے، اس لیے ایسے تعلیمی وژن کے حامل دعوت ناموں کو ملکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی اہم ملاقات

اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی بھی واضح کر چکے ہیں کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان سفیر کا خطاب محض ایک روٹین کا تعلیمی رابطہ ہے، جسے سفارتی پالیسی میں تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top