اسلام آباد: دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی نے کہا ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کا عملی امتحان شروع ہوچکا ہے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان کو معاہدے کے تحت اپنے دفاعی کردار کو پورا کرنا ہوگا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سید محمد علی نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ اب ایک ٹیسٹ کیس کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے تناظر میں پاک بحریہ سعودی عرب کی سمندری حدود میں دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جبکہ پاک فضائیہ کے اہلکار بھی سعودی عرب میں موجود ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کا بڑا بیان:
🚨🚨🚨
مکہ معاہدے کا ٹیسٹ کیس آ چکا ہے۔۔۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد اس وقت پاکستان کی بحریہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے نیلے پانیوں میں آ چکی ہے۔
پاکستان کی ایئر فورس سعودی عرب میں موجود ہے، اس وقت تک پاکستان کی فوج سعودی عرب کا دفاع کر رہی ہے، حملوں کو ناکام بنا رہی ہے۔۔ اس معاہدے کے تحت ہم نے حوثیوں کے حملے ناکام بنانے ہیں، معاہدہ دفاع سے متعلق ہے جارحیت یا جوابی کارروائی نہیں۔
@SyedAli78304182
#FaislaAapKa TEAM | Hum News— Asma Shirazi (@asmashirazi) September 9, 2026
دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بری فوج بھی سعودی عرب کے دفاع میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں شریک ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داری دفاع تک محدود ہے، اس کا مقصد کسی جارحانہ یا جوابی کارروائی میں حصہ لینا نہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کو روکنا اور ملک کے دفاع میں معاونت کرنا پاکستان کی معاہداتی ذمہ داری ہے۔
سید محمد علی نے کہا کہ مکہ معاہدے کو جارحانہ کارروائی کے معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی آئل تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسے حملوں کی بھرپور مذمت کرچکا ہے اور اس معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار نے زور دیا کہ پاکستان کی کمٹمنٹ سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہے اور اس کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔ ان کے بقول دفاع کا مطلب جوابی حملہ نہیں بلکہ دشمن کے حملے کو ناکام بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب پر حوثی حملے، برادر ملک کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنیان المرصوص کے دوران پاکستان نے بھارت کی جانب سے کیے گئے جنگی طیاروں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا۔ ان کے مطابق پاکستان نے جوابی کارروائی اس وقت کی جب پاکستانی ایئربیسز کو نشانہ بنایا گیا۔
سید محمد علی کا کہنا تھا کہ دفاع کے تصور کو واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حوثیوں کی جانب سے میزائل حملہ کیا جاتا ہے اور پاکستان اسے ناکارہ بناتا ہے یا میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے روکتا ہے تو یہ دفاع کے زمرے میں آتا ہے،
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان سعودی عرب کی درخواست پر کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحیت میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال انہیں ایسے کسی اقدام کے امکانات نظر نہیں آتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان سفارتی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کیلئے اپنی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی کابینہ کا بڑا اعلان
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کے سامنے جوابی کارروائی کا آپشن نہیں بلکہ سعودی عرب کے دفاع اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا راستہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے شدید حملوں کا سامنا ہے۔ حالیہ حملوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی کے مراکز اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان واقعات میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ اگست 2026 میں سامنے آیا تھا، جسے تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور سکیورٹی تعاون کے اہم فریم ورک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔





