جہانزیب آفریدی
پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے آبائی علاقے وادی تیراہ اپر باڑہ کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جہاں ننگروسہ کے مکین گزشتہ تقریباً 70 برس سے سڑک کی تعمیر کے منتظر ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں تقریباً ڈھائی سے تین کلومیٹر سڑک نہ ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کیلئے آج بھی چارپائیوں پر کندھوں کے ذریعے یا خچروں کی مدد سے لے جانا پڑتا ہے، کیونکہ موجودہ راستوں پر گاڑیوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ معمولی بیماری کی صورت میں بھی مریض کو ہسپتال پہنچانا ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے، جبکہ خواتین کے ڈیلیوری کیسز میں مشکلات مزید سنگین ہوجاتی ہیں۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی علاقے کے عوام 70 سال گزرنے کے باوجود بنیادی سڑک جیسی سہولت سے محروم رہیں تو ترقیاتی دعووں اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ اپر باڑہ جیسے دور افتادہ علاقے کو محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چھت نہ کتابیں، وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع میں بچے کھلے آسمان تلے مٹی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
علاقہ مکینوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین عبدالغنی آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقے کے عوام کی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ننگروسہ کی ڈھائی سے تین کلومیٹر سڑک کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات کریں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ محمد سہیل آفریدی صوبے کے پہلے قبائلی وزیر اعلیٰ ہیں، اس لیے انہیں قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے عملی مثال قائم کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق عوام اب مزید انتظار کے بجائے سڑک کی تعمیر کا عملی آغاز دیکھنا چاہتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اس دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور علاقے کے عوام کو ہسپتال تک محفوظ رسائی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔





