چارسدہ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج سے متعلق سوال پر کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی فی الحال ممکن نہیں، اس حوالے سے کی جانے والی باتیں محض خواب و خیال ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے مبینہ احتجاج کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں، اس دن کیا ہونے کی توقع ہے؟ جس پر ایمل ولی خان نے عمران خان کی رہائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں موجودہ سیاسی سرگرمیوں کا مقصد عمران خان کی رہائی نہیں، بلکہ ان سب لوگوں کا اپنا فائدہ ہے۔ انہوں نے پشتو کی ایک ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے اندر رہنے میں کئی لوگوں کا فائدہ ہے اور وہ اسی صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ تباہ ہوچکا ہے اور ان کے مطابق ریاستی اداروں نے ایک منصوبے کے تحت ایسا ماڈل صوبے پر لاگو کیا ہے جس کے نتیجے میں ایسے لوگ اقتدار میں آتے ہیں جو پختونوں کے حقوق اور وسائل کی بات نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اور عمران خان کے نام پر ڈالر خور یوٹیوبرز سے لانگ مارچ کی فنڈنگ مانگی گئی، شفیع جان کی ویڈیو وائرل
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی اور بدانتظامی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت کی رٹ بھی متعدد علاقوں میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وسائل، قرضوں اور گزشتہ تیرہ برسوں میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔
سینیٹ میں ایک وفاقی وزیر کے ساتھ تلخ کلامی سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے کہا کہ غلط بات پر ان کا ردعمل سامنے آتا ہے اور یہ کسی شخص کے دباؤ یا اثر و رسوخ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ سینیٹ میں وہ پنجاب سے متعلق ایک معاملے پر سوالات اٹھا رہے تھے۔ ان کے مطابق ستھرا پنجاب کے ایک ملازم نے تنخواہ نہ ملنے کے باعث خودکشی کی تھی اور وہ اسی معاملے پر سوال کررہے تھے، تاہم اس موقع پر بعض افراد کی جانب سے ہنسی کا اظہار کیا گیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ شاید ان کے سوالات کا مقصد انہیں خاموش کرانا تھا، لیکن وہ ایسے معاملات پر خاموش نہیں ہوں گے۔
ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر ایمل ولی خان نے کہا کہ یہ آئین اور قانون کے خلاف ہے، تاہم عدالتی نظام میں تاخیر کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ خود ہی انصاف کے فیصلے کرنے لگیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالتوں سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کا حل بندوق اٹھانا نہیں، بلکہ آئین اور قانون پر عملدرآمد ہے۔ ان کے مطابق نظام میں پیسے، طاقت اور جبر کا اثر موجود ہے اور مظلوم شخص کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گریڈ20کےپولیس افسرکیپٹن(ر)سہیل چودھری نئےآئی جی اسلام آبادتعینات
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ انکاؤنٹرز پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ آئین اور قانون کہاں ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کل کو عام لوگوں کو بھی ایسے واقعات کا سامنا ہوسکتا ہے اور پھر ان سے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔
ایمل ولی خان نے عدلیہ اور نظام میں بہتری کے سوال پر کہا کہ اس کا بنیادی حل آئین اور قانون پر عملدرآمد ہے۔ ان کے مطابق پارلیمان کو بااختیار اور سپریم بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ عدلیہ، پولیس اور دیگر اداروں سے جواب طلب کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان وہ واحد جگہ ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندے موجود ہوتے ہیں، اس لیے عوام کا اختیار ان نمائندوں کو مکمل طور پر منتقل ہونا چاہیے۔
ایمل ولی خان نے انتخابات سے متعلق کہا کہ پہلے الیکشن چوری نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام جسے چاہیں منتخب کریں، چاہے وہ کوئی بھی شخص ہو، لیکن منتخب نمائندوں کو مکمل اختیار ملنا چاہیے تاکہ وہ ریاستی اداروں سے بھی سوال کرسکیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس مؤقف کہ موجودہ نظام نہیں چل سکتا، پر ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : 9 مئی ریڈیو پاکستان کیس، فرانزک رپورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسی نظام کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، انہیں پہلے استعفیٰ دینا چاہیے، اس کے بعد نظام پر بحث کی جائے۔
اپنے آبائی علاقے چارسدہ میں امن و امان کی خراب صورتحال سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے کہا کہ چارسدہ کی آواز اٹھانے والا کوئی حقیقی رہنما موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد یا پشاور میں بیٹھ کر خود کو چارسدہ کا رہنما نہیں کہتے۔ ان کے مطابق رہنما وہ ہوتا ہے جو اسمبلی میں اپنے علاقے کے حقوق کی آواز اٹھائے اور عملی طور پر عوام کے مسائل کی نمائندگی کرے۔
پختونوں کی جانب سے ووٹ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے دینے کے دعوے سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے سخت ردعمل دیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ پختونوں نے صرف عمران خان کی رہائی کے لیے ووٹ دیا تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ پختون تعلیم، ترقی، بجلی، اسکول، اسپتال، سڑکیں، نکاسی آب، امن اور روزگار نہیں چاہتے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ کیا پختون کو صرف عمران خان کی رہائی چاہیے؟ انہوں نے اس مؤقف پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سوچ پر توبہ کرنی چاہیے۔





