پشاور: خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈیٹا کو نجی ہسپتال کے ساتھ منسلک کیے جانے سے متعلق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی نے سنگین دعویٰ کردیا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کا ڈیٹا شوکت خانم ہسپتال کے ساتھ لنک ہے اور تمام ہسپتالوں کا ڈیٹا اس نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عالمگیر کے حیران کن انکشافات#FrontLinePakistan #KPK@farzanaalispark pic.twitter.com/HkCIPPWHcM
— Voicepk.net (@voicepkdotnet) September 12, 2026
میزبان کے سوال پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ہسپتال کا ڈیٹا ایک نجی ہسپتال کے ساتھ منسلک کرنا قانونی طور پر درست نہیں، کیونکہ سرکاری اداروں کے مریضوں کا ڈیٹا نجی ادارے کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا۔
ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کے مریضوں کے ڈیٹا پر تحقیق کی جاتی ہے اور ان کے بقول اس ریسرچ سے مالی فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی کے آبائی علاقے میں مریض آج بھی چارپائیوں پر ہسپتال جانے پر مجبور
انہوں نے کہا کہ وہ یہ الزام نہیں لگا رہے بلکہ متعلقہ حکام خود جاکر ریکارڈ اور سافٹ ویئر کا جائزہ لے سکتے ہیں اور معلوم کرسکتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کا ڈیٹا کس طرح شوکت خانم کے نظام کے ساتھ منسلک ہے۔
سابق وزیراعلیٰ محمود خان سے ملاقات کا حوالہ
ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے بھی اس معاملے پر ملاقات کی تھی۔
ان کے مطابق ملاقات کے دوران انہوں نے سرکاری ہسپتالوں اور صحت کے شعبے سے متعلق مسائل پر بات کی، تاہم سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے بے بسی کا اظہار کیا گیا۔
ڈاکٹر عالمگیر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ محمود خان نے اپنے دور میں سوات میں ایم ٹی آئی نظام کے نفاذ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے تھے، تاہم ان کے بقول اس کے علاوہ وہ زیادہ کچھ نہیں کرسکے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈیٹا کے نجی اداروں سے مبینہ رابطے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ مریضوں کا ڈیٹا کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔





