صبح آنکھ کھلتے ہی دل تیز دھڑکنے کی وجوہات، آسان حل جانیں

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: بعض افراد کو صبح نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہے۔

اکثر یہ کیفیت چند لمحوں تک رہتی ہے اور پھر دھڑکن خود ہی معمول پر آجاتی ہے، تاہم اگر ایسا بار بار ہو یا اس کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق صبح کے وقت دل کی دھڑکن تیز ہونے کی متعدد عام وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، پانی کی کمی اور چائے یا کافی کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔

جاگنے کے بعد دل تیز کیوں دھڑکتا ہے؟

نیند کے دوران جسم نسبتاً آرام کی حالت میں ہوتا ہے، جبکہ بیدار ہونے کے بعد جسم دوبارہ فعال ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس دوران دل خون کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے کچھ دیر کے لیے تیز دھڑک سکتا ہے۔

خاص طور پر بستر سے اٹھ کر کھڑے ہونے کے وقت بعض افراد کو دل کی دھڑکن میں تیزی محسوس ہوسکتی ہے۔ اگر کچھ دیر بعد دھڑکن معمول پر آجائے اور کوئی دوسری تکلیف نہ ہو تو عموماً زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

رات بھر پانی نہ پینا

رات کے کئی گھنٹوں کے دوران پانی نہ پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں خون کی گردش برقرار رکھنے کے لیے دل کو نسبتاً زیادہ تیزی سے کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر صبح دل تیز دھڑکنے کے ساتھ منہ خشک ہونے، زیادہ پیاس لگنے یا چکر آنے کی شکایت بھی ہو تو پانی کی کمی اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔

ذہنی دباؤ اور پریشانی

ذہنی دباؤ، بے چینی اور زیادہ پریشانی بھی دل کی دھڑکن کو متاثر کرسکتی ہے۔ رات کو مناسب نیند نہ آنا یا کسی پریشانی کے باعث بار بار آنکھ کھلنے کی صورت میں صبح بیدار ہونے پر دل تیز دھڑکنے کا احساس ہوسکتا ہے۔

چائے اور کافی کا زیادہ استعمال

چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین بعض افراد میں دل کی دھڑکن تیز کرسکتی ہے۔ رات کے وقت زیادہ مقدار میں چائے یا کافی استعمال کرنے سے نیند بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں اگلی صبح دھڑکن تیز محسوس ہوسکتی ہے۔

اگر یہ مسئلہ بار بار پیش آرہا ہو تو چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کا استعمال کم کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔

نیند پوری نہ ہونا بھی ایک وجہ

مناسب نیند نہ لینا بھی جسم پر مختلف اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ رات دیر تک جاگنے، بار بار آنکھ کھلنے یا نیند کا معیار خراب ہونے کی صورت میں بعض افراد کو صبح کے وقت دل کی دھڑکن میں تیزی محسوس ہوسکتی ہے۔

اس لیے روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور مناسب نیند لینے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

تھائرائیڈ یا دل کی دھڑکن کا مسئلہ

کچھ صورتوں میں تیز دھڑکن کسی طبی مسئلے کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر تھائرائیڈ ہارمون کی زیادتی دل کی رفتار بڑھا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ وزن کم ہونا، زیادہ پسینہ آنا، ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور بے چینی جیسی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اسی طرح دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا بھی اس کیفیت کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود سے تشخیص کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔

دل تیز دھڑکے تو کیا کرنا چاہیے؟

صبح بیدار ہوتے ہی دل کی دھڑکن تیز محسوس ہو تو فوری طور پر گھبرانے کے بجائے کچھ دیر آرام سے بیٹھیں اور آہستہ آہستہ سانس لیں۔ بستر سے اچانک کھڑے ہونے کے بجائے پہلے کچھ دیر بیٹھنے اور پھر آہستگی سے اٹھنے کی کوشش کریں۔

دن کے دوران مناسب مقدار میں پانی پینا، نیند پوری کرنا اور چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے گریز بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

کن علامات میں فوری طبی مدد ضروری ہے؟

اگر دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، شدید چکر، بے ہوشی یا بہت زیادہ بے ترتیب دھڑکن محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

صبح بیدار ہونے کے بعد کچھ دیر کے لیے دل کی دھڑکن تیز ہونا لازماً دل کی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ جسم کے جاگنے کے قدرتی عمل کے علاوہ پانی کی کمی، ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی اور کیفین بھی اس کی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ تاہم اگر یہ کیفیت بار بار پیش آئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا بہتر ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top