افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے، آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کو شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، طلال چودھری

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں نام نہاد ایکشن کمیٹی کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چودھری نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں مختلف ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز بھی چلائی گئیں۔

وزیر مملکت کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سہولت کاری کرنے والا ایک ٹیرر کرائم نیٹ ورک سرگرم ہے، جس کے خلاف کارروائی کا آغاز ضیا نامی شخص کی گرفتاری سے ہوا۔ ان کے مطابق ضیا آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور گزشتہ 8 سے 10 برس سے اسلحے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

طلال چودھری نے دعویٰ کیا کہ ضیا گزشتہ دو سال سے کالعدم جیک (عوامی ایکشن کمیٹی) کے قریبی لوگوں کو اسلحہ فراہم کررہا تھا۔ سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔

ان کے مطابق ضیا کے رابطے ماجد نامی شخص سے تھے، جو سردار امان کا کارِ خاص بتایا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ سردار امان کالعدم جیک (عوامی ایکشن کمیٹی) کے سرگرم رکن ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ضیا اور ماجد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ بھی سنائی گئی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید بتایا کہ ضیا کے افغانستان میں زرشاد نامی شخص سے بھی رابطے تھے، جو اسے اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ ان کے بقول زرشاد افغانستان کے مختلف شہروں سے آپریٹ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیاب کارروائی، کمانڈر سمیت 3 دہشتگرد ہلاک

طلال چودھری نے کہا کہ اکبر نامی ایک سرکاری ملازم بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے، جسے ہر پھیرے کے عوض رقم دی جاتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے اسلحہ پہلے باڑہ، خیبرپختونخوا پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے آزاد کشمیر منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں مقامی سہولت کاری بھی شامل ہے۔

طلال چودھری نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم یا جزوی طور پر مان لیے گئے اور ان پر عملدرآمد بھی شروع ہوگیا تو اچانک لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہ رہے۔

وزیر مملکت کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور کے اندر بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے، تاہم اسی روز تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل مہم جاری تھی۔

طلال چودھری نے کہا کہ تشدد کے لیے کی جانے والی تیاری ایک روز میں نہیں ہوئی بلکہ ضیا گزشتہ دو سال سے متعلقہ افراد کو اسلحہ فراہم کررہا تھا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ضیا نامی شخص کا مکمل اعترافی ویڈیو بیان بھی میڈیا کے سامنے چلایا گیا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top