کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز اور سی ٹی ڈی دفتر کے قریب واقع مسجد پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 16 افراد شہید اور 57 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران مزید لاشیں اور زخمی منتقل کیے جانے کے بعد شہداء میں ایس پی ٹریفک شینواری سمیت 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ آپریشن میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو وہیکلز اور ریکوری وہیکلز سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جس دوران ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد میں مزید تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد پاک فوج کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور پاک فوج کے جوان ریسکیو آپریشن اور سیکیورٹی اقدامات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی کے ذریعے خودکش حملے کے نتیجے میں شدید نقصان ہواجبکہ جوابی کارروائی کے دوران فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر حتمی تصدیق ہونا باقی ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے تمام اطراف کے راستے بند کر کے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اس بڑے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزراء کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





