پشاور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ نتائج کا اعلان کر دیا

(رانی عندلیب)پشاور: انٹر میڈیٹ بارہویں جماعت کے سالانہ نتائج طلبہ کی تعلیمی زندگی میں ایک کلیدی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق امتحان میں مجموعی طور پر 66,735 طلبا و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 35,103 امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ 30,878 طلبا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور 754 طلبہ امتحانات میں غیر حاضر رہے۔

اس طرح مجموعی طور پر کامیابی کا تناسب 52.60 فیصدریکارڈ کیا گیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نصف سے کچھ زائد امیدوار امتحان پاس کرنے میں کامیاب رہے جبکہ ایک بڑی تعداد کو مزید محنت کی ضرورت ہے۔

اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو سرکاری اداروں کی طالبات نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سرکاری کالجوں کی 21,496 طالبات میں سے 16,064 کامیاب ہوئیں، 5,328 ناکام رہیں جبکہ 104 غیر حاضر رہیں۔ اس طرح سرکاری طالبات کی کامیابی کی شرح 74.73 فیصد رہی جو کہ تمام زمروں میں سب سے نمایاں ہے۔

اس کے برعکس سرکاری اداروں کے طلبہ کی کامیابی کی شرح 39.05 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری اداروں میں کل 35,227 طلبہ رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 13,756 کامیاب، 21,135 ناکام اور 336 غیر حاضر رہے۔

یہ فرق اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو نکھارنے کے لیے مزید توجہ، خصوصی رہنمائی اور بہتر تعلیمی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کے نتائج کے مطابق، نجی شعبے کی 3,426 طالبات میں سے ,224 کامیاب ہوئیں، 1,129 ناکام رہیں اور 73 غیر حاضر رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایبٹ آباد بورڈ نے گیارہویں جماعت کے سالانہ نتائج کا اعلان کر دیا

نجی طالبات کے پاس ہونے کی شرح 64.92 فیصد رہی۔ دوسری طرف، نجی اداروں کے طلبہ کی کل تعداد 6,586 تھی، جن میں سے 3,059کامیاب، 3,286 ناکام اور 241 غیر حاضر رہے۔ نجی طلبہ کی کامیابی کا تناسب 46.45 فیصد رہا۔

مجموعی نتائج کا تقابلہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں شعبوں (سرکاری و نجی) میں طالبات نے طلبہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق، امتحان میں ملنے والا نتیجہ محض چند ہندسوں کا نام نہیں بلکہ یہ طلبہ کی محنت، حالات اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا ایک اہم موڑ ہے۔

ناکام ہونے والے طلبہ کو مایوس ہونے کے بجائے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا تجزیہ کر کے دوگنی محنت سے دوبارہ تیاری کرنی چاہیے۔

دوسری جانب یہ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو معیاری تعلیم، بہتر رہنمائی اور بھرپور حوصلہ افزائی فراہم کریں تاکہ آئندہ امتحانات میں کامیابی کا گراف مزید بلند ہو سکے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اپنے روشن مستقبل اور پیشہ وران خوابوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

Scroll to Top