وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ہم ان کو کسی صورت اسلام آباد میں انتشار اور خیبر پختونخوا کے خوبصورت صوبے کو تباہ نہیں کرنے دیں گے۔
ریڈیو پاکستان پشاور کی نوتعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کہا کہ ریڈیو پاکستان کی بحالی پر خوشی ہو رہی ہے یہ ہمارا اثاثہ اور تاریخ ہے۔ پی ٹی آئی کی دشمنی ریڈیو پاکستان سے نہیں بلکہ ریاست پاکستان سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایبسلوٹنی ناٹ کس کو کہا تھا؟ ان کے ڈی این اے میں مکاری ہے، یہ بربادی اور تباہی کرنا جانتے ہیں لیکن انہیں تعمیر و ترقی کرنا ہی نہیں آتی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف نے پوری قوم کو ایک نعرے کے پیچھے لگا دیا کہ ہم کوئی غلام ہیں؟ ہاں یہ غلام ہیں۔ پی ٹی آئی اور ان کی قیادت غلام ہیں۔ یہ ذہنی غلام ہیں یہ کبھی پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی بات نہیں کریں گے۔ یہ بہروپیے ہیں ان کا ہماری مٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نےکہا کہ ان کا پاکستان اور اس کی سالمیت کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سیاسی لوگ نہیں ہیں ورنہ یہ انتشار نہ پھیلاتے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت 6 ماہ میں دو کلومیٹر کی سڑک نہیں بنا سکتی لیکن ہم نے جدید اسٹوڈیو کے ساتھ ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو 6 ماہ میں مکمل کر لیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ میاں نواز شریف نے دنیا کی مخالفت مول لیتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا غیرت، عزت اور وقار والوں کی دھرتی ہے جبکہ پختون اور غیرت لازم و ملزوم ہے۔ چاغی کا پہاڑ جو ہماری بہادری کی علامت ہے انہوں نے اس کے ماڈل کو بھی جلا دیا۔ یہ کام دشمن کرنا چاہتا تھا لیکن یہ کام انہوں نے کر دیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جھوٹے بیانیے بنانے میں ماہر ہیں جبکہ ملک کی خودمختاری اور ترقی کی بات ہمیشہ مسلم لیگ ن نے کی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کی کرنل شیرخان سے کیا دشمنی تھی؟ وہ ایک بہادر سپاہی تھا جس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن انہوں نے اس کا مجسمہ بھی جلا دیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو کس نے روکا کہ پشاور میں سیف سٹی نہ بنائے جب سانحہ کوہاٹ ہو رہا تھا تو سہیل آفریدی ویڈیوز بنوا رہے تھےجبکہ سانحہ کوہاٹ کے زخمیوں کے بلند حوصلے نے مجھے مضبوط کیا۔
وفاقی وزیر نے فنڈز پر کہا کہ وفاقی حکومت نے ہر سال خیبر پختونخوا کو این ایف سی کی مد میں اربوں روپے دیئے، وفاق نے خیبرپختونخوا کو جو پیسہ دیا اس کا حساب کون دے گا؟ ایک دن دھرنے سے 120 ارب کا نقصان ہوتا ہے جبکہ ہم سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : گوادر: میری لاپتہ بیٹی مروا کالعدم تنظیم بی ایل اے میں شامل ہو چکی ہے،والد کی حکام سے بازیابی کی اپیل
انہوں نے کہا کہ ہم خیبرپختونخوا کے خوبصورت صوبے کو تباہ نہیں ہونے دیں گے اور ان کو کسی صورت اسلام آباد میں انتشار نہیں پھیلانے دیں گے۔ یہ لوگ وفاق سے امن وامان کے لیے ملے 150 ارب روپے کھا گئے لیکن ہم ان سے گزشتہ ساڑھے 13 سال کا حساب لیں گے۔ اور خیبر پختونخوا کے عوام کا استحصال نہیں ہونے دیں گے۔





