پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کی جانب سے ہرجانہ کیس میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کیس کو متعدد بار پکارا گیا، تاہم شوکت یوسفزئی اور ان کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی کیس کی پیروی کی گئی۔
عدالت کے مطابق موجودہ صورتحال میں اپیل خارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے کیس میں دلچسپی بھی ظاہر نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے شوکت یوسفزئی کے خلاف ہتکِ عزت کا ہرجانہ کیس دائر کیا تھا۔
پشاور کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے 2025 میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے شوکت یوسفزئی کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال کا ہتک عزت کا دعوی منظور، عدالت کا مراد سعید کوہرجانہ ادا کرنے کا حکم
شوکت یوسفزئی نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے اب عدم پیروی پر ان کی اپیل خارج کردی ہے۔
یہ مقدمہ 2019 میں شوکت یوسفزئی کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے بارے میں دیے گئے ایک بیان سے متعلق تھا۔





