وزیراعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے اپنے تاریخی اور تفصیلی خطاب میں عالمی امن، علاقائی سلامتی، کشمیر، فلسطین، اور افغانستان سے جاری دہشت گردی پر پاکستان کا دو ٹوک اور سخت موقف پیش کیا ہے۔
تلاوتِ قرآنِ پاک سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے ایوان سے چوتھی بار خطاب کرنے اور 240 ملین پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کو اپنے لیے باعث اعزاز قرار دیا۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی متحرک قیادت اور عالمی امن و غربت کے خاتمے کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو انتہائی سخت اور دو ٹوک الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو “کھلی جنگ” تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پانی کو کسی صورت ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ دریا قوموں کو سیراب کرنے کے لیے ہوتے ہیں، انہیں تقسیم کرنے کے لیے نہیںے۔
جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچنے سے روکنے کی تاکید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ کشمیری عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی قبضے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور رہے گا، اور پاکستان حقِ خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی حملے کو پسپا کر کے دشمن کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ہے۔
خطے میں امن کے لیے سفارتی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت ایک ایسا اقدام تھا جس سے جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچیں۔
عالمی سطح پر پاکستان کی امن کوششوں کا احاطہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک اور اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے تاریخی اور بے مثال سفارتکاری کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لایا۔
انہوں نے اس غیر معمولی کامیابی، دفاعی اور سفارتی محاذ پر ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے عالمی فورم پر پاکستان کی زیر صدارت تنازعات کے پرامن حل کی قرارداد کے متفقہ منظوری کو زبردست فتح قرار دیا۔
وزیراعظم نے خطے میں بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج اور بی ایل اے فتنہ الہندوسندوستان کے لیے پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے ہونے والے تمام حملے اور دراندازیاں فوری بند ہونی چاہئیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کریں اور افغان عوام بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100,000 جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسلم مہذب دنیا میں شدید غصہ پھیلا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کسی کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد محض خطے کے دفاع، استحکام اور قیامِ امن کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے دلخراش حقائق بیان کیے اور ہند رجب و 8 سالہ وفا عقیلہ کے سانحات کا ذکر کیا، جس کا اسکول کا پہلا دن ہی زندگی کا آخری دن بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی ایجنڈے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی لبنان اور شام کے خلاف جارحیت کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی اصلاحات سب کے لیے ہونی چاہئیں، کسی مخصوص ملک کو مراعات دینے کے لیے نہیں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے لیکن امن اس سے کہیں بہتر انتخاب ہے۔ امن کے تحفظ کے لیے جنگ روکنا زیادہ بہادری کا تقاضا کرتا ہے، اور امید ہے کہ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس امن کے لیے متفقہ انتخاب کرے گا۔





