100 ڈالر بھیجتے ہی قرعہ اندازی میں انٹری، 10 کروڑ جیتنے کا موقع

اسلام آباد: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آگئی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے اور وصول کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات پر مشتمل نئی اسکیم متعارف کرا دی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پاسبان ریمیٹینس ریوارڈ اسکیم کا افتتاح کردیا۔ اسکیم کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر بھیجنے کے لیے قانونی اور باضابطہ بینکاری ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، تاکہ ملک میں زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ ہو اور غیر رسمی ذرائع کے بجائے بینکنگ نظام کے ذریعے رقوم پاکستان منتقل ہوں۔

یہ اسکیم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام شروع کی گئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اسکیم کے تحت انعامات اور دیگر اخراجات بینکاری صنعت خود برداشت کرے گی، جس کے باعث قومی خزانے پر اس مد میں کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر سال 10 ہزار سے زائد افراد کو نقد انعامات دیے جائیں گے۔ ہر سہ ماہی میں 4 ارب روپے مالیت کے 2 ہزار 521 انعامات رکھے گئے ہیں، جبکہ سالانہ بنیاد پر انعامات کی مجموعی مالیت 16 ارب روپے تک ہوگی۔

انعامی رقم میں سب سے بڑا انعام 10 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، جو ہر سہ ماہی میں ایک خوش نصیب کو دیا جائے گا۔ دوسرے انعام کے تحت 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کے 20 انعامات، تیسرے انعام کے طور پر ایک کروڑ روپے کے 100 انعامات جبکہ چوتھے درجے میں 10 لاکھ روپے کے 2 ہزار 400 انعامات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آئی فون 18 پرو اور پرو میکس میں بڑی سافٹ ویئر خرابی سامنے آ گئی

یوں ہر سہ ماہی میں مجموعی طور پر 2 ہزار 521 افراد انعام حاصل کرسکیں گے، جبکہ چاروں سہ ماہیوں میں انعام حاصل کرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرے گی۔

اسکیم میں شرکت کے لیے اہلیت کی شرط بھی مقرر کی گئی ہے۔ وہ وصول کنندہ اہل ہوگا جو کسی بھی سہ ماہی کے دوران مسلسل تین ماہ تک اپنے بینک اکاؤنٹ میں ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر یا اس سے زائد کی ترسیلاتِ زر وصول کرے گا۔

اسکیم کے تحت ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک ڈیجیٹل انٹری نمبر دیا جائے گا۔ اس طرح بینکاری ذرائع سے جتنی زیادہ رقم پاکستان بھیجی جائے گی، اتنی ہی زیادہ ڈیجیٹل انٹریز حاصل ہوں گی اور قرعہ اندازی میں شرکت کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

پاسبان ریمیٹینس ریوارڈ اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی۔ اس میں یکم اکتوبر 2026 سے 31 دسمبر 2026 تک پاکستان آنے والی اہل ترسیلاتِ زر شامل ہوں گی۔ حکام کے مطابق قرعہ اندازی کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف ہوگا اور اسکیم میں شرکت کے لیے کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی۔

اسکیم میں مختلف خطوں کے لیے انعامات کا کوٹہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی انعامات میں سے 50 فیصد خلیج تعاون کونسل یعنی جی سی سی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کے لیے مختص ہوں گے، جبکہ برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، شمالی امریکا کے لیے 10 فیصد اور دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد حصہ رکھا گیا ہے۔

10 کروڑ روپے کا سب سے بڑا انعام تمام خطوں کے لیے اوپن ہوگا اور اس کے لیے کسی مخصوص خطے کا کوٹہ مقرر نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق قرعہ اندازی کے نتائج پاسبان کی مخصوص ویب سائٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور متعلقہ بینکوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق بھی اعدادوشمار پیش کیے۔ ان کے مطابق فروری 2023 میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 3 ارب ڈالر تک کم ہوگئے تھے، جو اب بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

جمیل احمد کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ ماضی کی طرح بیرونی قرضوں کے ذریعے نہیں بلکہ مارکیٹ سے زرمبادلہ خریدنے کی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جولٹا الیکٹرک نے نئی JE-125L موٹر سائیکل متعارف کرا دی

گورنر اسٹیٹ بینک نے سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو بھی سراہا اور بتایا کہ پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2019 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 21.7 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 2026 میں تقریباً دوگنا ہوکر 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر میں اضافہ ملک کے بیرونی کھاتے اور زرمبادلہ کی صورتحال کے لیے اہم ہے۔ نئی اسکیم کے ذریعے بینکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کی حوصلہ افزائی کا مقصد اس مالی بہاؤ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

پاسبان ریمیٹینس ریوارڈ اسکیم کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو نقد انعامات کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کو رسمی بینکاری نظام کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

اسکیم کے آغاز کے بعد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی ترسیلاتِ زر باقاعدہ بینکاری ذرائع سے بھیجیں اور اہلیت کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں ڈیجیٹل انٹری حاصل کریں۔ پہلی قرعہ اندازی جنوری 2027 میں ہوگی، جس کے بعد اسکیم کے تحت انعامات کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوگا۔

Scroll to Top