خیبرپختونخوا حکومت لوٹ مار میں ملوث، جلد وائٹ پیپر لائیں گے، امیر مقام

سلمان یوسفزئی

پشاور: وفاقی وزیر اور خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام نے صوبے میں امن و امان، دہشتگردی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے گورنر راج کو آئینی راستہ قرار دے دیا۔

پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کی کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، جبکہ جنوبی اضلاع مسلسل دہشتگردی سے متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہی ہے، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت پولیس پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے اہلکاروں کا مورال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امیر مقام نے صوبے کی یونیورسٹیوں میں تنخواہوں اور پنشن کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے صحت کارڈ کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے صحت کارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار کے ساتھ وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال سے تحریک انصاف کی حکومت ہے، تاہم ان کے بقول عوام کی بہتری کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر شعبوں کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی انتظامی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ان کے پاس انتظامی تجربہ نہیں، جبکہ صوبے میں بار بار وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ سے متعلق امیر مقام کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کے لیے اعلان کیا گیا تھا، تاہم مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔

ان کے مطابق تحریک انصاف کے پاس مارچ کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھیں : ہمارا صوبہ کسی بھی احتجاج یا مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

گورنر راج کے حوالے سے وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ گورنر راج آئینی راستہ ہے اور حکومت کے پاس یہ آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں۔

تاہم گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق باتوں کی تردید کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ گورنر اچھا کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی مسائل پر بات چیت کے لیے وہ آج بھی تیار ہیں، جبکہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کا مطالبہ حکومت کے بجائے عدالتوں سے کیا جانا چاہیے۔

امیر مقام نے کہا کہ دہشتگردی کے باعث خیبرپختونخوا میں عوام اور کاروباری طبقہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات اور کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو وفاق سے اربوں روپے ملنے کے بعد یہ سوال بنتا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان وسائل سے کیا کام کیا گیا۔

امیر مقام نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ ان کے بقول صوبائی حکومت کی موجودہ سمت صوبے کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں مبینہ غیر قانونی اقدامات میں ملوث افراد کو بھی جواب دینا ہوگا۔

Scroll to Top