کامران علی شاہ
پشاور: خیبرپختونخوا اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024 پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، محکمہ لائیو سٹاک، محکمہ بلدیات، محکمہ ماحولیات، وائلڈ لائف اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024 نافذ کردیا، تاہم قانون پر عملدرآمد کے لیے تاحال ضروری قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہستان مالیاتی اسکینڈل، پشاور ہائیکورٹ نے خاتون کو نیب کا نوٹس معطل کردیا
درخواست کے مطابق ایکٹ کے تحت اینیمل ویلفیئر انسپکٹرز کی تعیناتی بھی نہیں کی گئی، جبکہ اینیمل ویلفیئر بورڈ کا قیام بھی تاحال عمل میں نہیں آسکا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سٹریٹ ڈاگز کو زہر دینے اور فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے،
جس کے باعث جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے واقعات تشویشناک صورتحال اختیار کر رہے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سٹریٹ ڈاگز کو زہر، فائرنگ یا دیگر ظالمانہ طریقوں سے ہلاک کرنے سے روکا جائے اور اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبے کے بڑے شہروں میں سرکاری شیلٹر ہومز قائم کیے جائیں، جبکہ اینیمل ویلفیئر کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں۔





