محمود اچکزئی کے کردار پر پی ٹی آئی ارکان کے تحفظات سامنے آگئے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے گروپ میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس پر ارکان کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

پارلیمانی گروپ میں شیئر کیے گئے پیغامات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں رہنما مذاکرات یا مزاحمت میں سے کسی ایک راستے کا واضح طور پر انتخاب کریں کیونکہ موجودہ صورتحال میں پارٹی مزید ابہام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

پیغامات میں کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف کا عہدہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دیا تاہم وہ نہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھاتے دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی مزاحمتی سیاست میں عملی طور پر شریک نظر آتے ہیں۔

ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر محمود خان اچکزئی مذاکرات یا مزاحمت میں سے کسی ایک راستے پر عملی کردار ادا نہیں کر سکتے تو انہیں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم کی ملاقات،پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

پارلیمانی گروپ میں بعض ارکان کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ وقتی طور پر قائد حزب اختلاف کا عہدہ بیرسٹر گوہر خان کو دیا جائے تاکہ مذاکرات اور مفاہمت کی کوشش کی جا سکے جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں یہ ذمہ داری جنید اکبر کو سونپی جائے تاکہ وہ سہیل آفریدی کے ساتھ مل کر مزاحمتی سیاست میں کردار ادا کریں۔

Scroll to Top