پشاور: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت پرتشدد احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا، جبکہ ان کے بقول پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
انٹرویو میں امیر حیدر ہوتی نے ملک اور خصوصاً خیبرپختونخوا کو درپیش سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اور بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی کے ماحول میں ملک میں استحکام پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر احتجاج اور انتشار کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور سیاسی مکالمے میں ہے۔
امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معاشی بحالی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں بھی مشکلات برقرار رہیں گی اور عوام کو پائیدار امن فراہم کرنا مشکل ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کے احتجاجی شیڈول پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کو سیاسی انداز میں بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور بھارت کا فائنل بارش سے متاثر ہوا تو گولڈ میڈل کس ٹیم کو ملے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ کبھی 27 اور کبھی 4 تاریخ کو لانگ مارچ کے اعلانات کیے جاتے ہیں، جبکہ لکی مروت سے کرک، کوہاٹ، پشاور اور پھر صوابی تک ریلیاں نکالنے کی حکمت عملی ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
امیر حیدر ہوتی نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف اپنے ہی صوبے کی سڑکیں بند کرنے سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن ہوجائے گی؟
انہوں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ پنجاب احتجاجی مہم کے حوالے سے خاموش ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سڑکوں پر لاکر ان کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔
تاہم سابق وزیراعلیٰ نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے یہی مناسب راستہ ہے اور اس عمل سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔
امیر حیدر ہوتی نے خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں مختلف اضلاع میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔
ان کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان جاری سیاسی کشمکش اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی جیسے اہم معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں، جس پر صوبے کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فنڈ ریزنگ شروع ہوتے ہی سوالات کی بوچھاڑ، پشاور کے شہری کھل کر بول پڑے
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا چاہیے، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس کا ردعمل زیادہ تر زبانی مذمت تک محدود ہے۔
امیر حیدر ہوتی نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر جامع پالیسی ضروری ہے، جس میں ریاست، وفاق اور صوبوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت کی غفلت کا نقصان خیبرپختونخوا کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ کے مطابق خیبرپختونخوا کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر سیاسی قوتوں کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور پارلیمانی عمل کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔





