کے پی حکومت کو انسدادِ دہشتگردی کیلئے 700 ارب روپے ملے، مگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ترجیح ایک قیدی کی رہائی ہے، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔

 پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشتگردی کے لیے 700 ارب روپے دیے جا چکے ہیں، تاہم اس کی ایک ہی پالیسی دکھائی دیتی ہے کہ دہشتگردوں کو کیسے پروان چڑھایا جائے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لاشیں گر رہی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ کی ترجیح ایک قیدی کی رہائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف اقدامات کی خواہش نہیں رکھتی اور دہشتگردی کو تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس بھی منعقد نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو تقویت دینے کی پالیسی دراصل دہشتگردوں کو کور دینے کے مترادف ہے۔

عطا تارڑ نے تحریک انصاف پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے کسی ایک بات پر قائم رہنے کو تیار نہیں اور حکومت کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان خیبرپختونخوا میں دہشتگردی لے کر آئے اور دہشت گردوں کو صوبے میں بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے، وزیر دفاع خوجہ آصف

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’پی ٹی آئی والے پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ؟‘‘ وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی رہنما فوائد پاکستان سے حاصل کرتے ہیں لیکن حمایت افغانستان کی کرتے ہیں۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں کوئی سنجیدہ خواہش نظر نہیں آتی، جبکہ وزیراعلیٰ کی ترجیح صرف ایک قیدی کو رہا کروانا ہے۔

Scroll to Top