کیاکارکنوں نے ساتھ چھوڑ دیا؟ پی ٹی آئی لانگ مارچ کیلئے 2 ہزار سے کم افراد جمع کر سکی

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ سے متعلق زبردست دعوؤں اور طویل اعلانات کے برعکس زمینی صورتحال انتہائی مایوس کن سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قافلے اور جنوبی اضلاع سے آنے والے تمام کارکنوں کو ملا کر بھی پی ٹی آئی محض 1500 سے 2000 افراد ہی اکٹھے کر سکی ہے جس نے پارٹی کی قیادت کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

کارکنوں کی انتہائی محدود تعداد اور عوامی پذیرائی نہ ملنے کے باعث وزیراعلیٰ کے شیڈول میں شدید تاخیر دیکھنے کو ملی۔ جس وزیراعلیٰ نے دوپہر 12 بجے لکی مروت پہنچنا تھا، وہ تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے وقت بڑھاتے رہے۔

پہلے 12 بجے کا وقت گزرا، پھر 1 اور 2 بجے کا، اور بالآخر شام 4 بجے مجبوری کے عالم میں وزیراعلیٰ کو وہاں پہنچنا پڑا کیونکہ اس سے مزید تاخیر کی صورت میں خراب موسم اور اندھیرے کے باعث ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ناممکن ہو جاتی۔

شام تک کے زمینی حقائق یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی چند ہزار افراد کا مجمع بھی نہیں جمع کر سکی۔

تجزئیہ کاروں کاکہنا ہے کہ لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ اس ناکامی، خفت اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے اب اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی ڈرامائی اقدام یا نچلے درجے کا ڈرامہ رچایا جائے۔

اطلاعات کے مطابق اگلے مرحلے میں ان کا کرک جانے کا منصوبہ ہے تاہم ذرائع کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اپنی ریلی کو خبروں میں لانے اور عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی تخریب کاری یا بدامنی پھیلانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔

Scroll to Top