انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، اعلیٰ حکومتی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوں گی

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اہم دورے پر کل صبح پاکستان پہنچیں گے، جہاں وہ اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دورہ پاکستان کے دوران انتونیو گوتریس وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کریں گے۔

اس دوران پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی و ثالثی کی کوششوں اور دونوں ممالک کے مذاکرات کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

&

nbsp;

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان میں آفات سے نمٹنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ انتونیو گوتریس آخری مرتبہ 2022 میں پاکستان آئے تھے، جب انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ورکر سڑکوں پر اسلحہ بردار، لیڈر بم پروف بلٹ پروف گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپے ہوئے، خواجہ آصف

اپنے دورے کے دوران انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کے ہیڈکوارٹرز بھی جائیں گے۔ یو این ایم او جی آئی پی بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پر مشتمل مشن ہے۔

انتونیو گوتریس 1949 میں پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں پیدا ہوئے اور انہوں نے انسٹی ٹیوٹو سپیریئر ٹیکنیکو سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پرتگالی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی شادی کاتارینا ڈی المیڈا واز پنٹو سے ہوئی اور ان کے دو بچے، ایک سوتیلا بیٹا اور تین پوتے پوتیاں ہیں۔

انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کے نویں سیکریٹری جنرل ہیں اور انہوں نے یکم جنوری 2017 کو اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس سے قبل وہ جون 2005 سے دسمبر 2015 تک اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں : کے پی کو لاوارث چھوڑ دیا گیا، وزیراعلیٰ ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، امیر مقام

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین بننے سے قبل گوتریس نے 20 سال سے زائد عرصے تک حکومت اور عوامی خدمت میں کردار ادا کیا۔ وہ 1995 سے 2002 تک پرتگال کے وزیراعظم رہے اور اس دوران مشرقی تیمور کے بحران کے حل کے لیے عالمی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

گوتریس 1976 میں پرتگال کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 17 سال تک پارلیمانی خدمات انجام دیں۔ 1981 سے 1983 تک وہ کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کے رکن رہے، جہاں انہوں نے آبادی، ہجرت اور پناہ گزینوں سے متعلق کمیٹی کی سربراہی بھی کی۔

وہ کئی برس تک سوشلسٹ انٹرنیشنل سے بھی وابستہ رہے اور 1992 سے 1999 تک تنظیم کے نائب صدر جبکہ 1999 سے 2005 کے وسط تک صدر رہے۔

انہوں نے پرتگالی ریفیوجی کونسل اور پرتگالی کنزیومرز ایسوسی ایشن ڈی ای سی او کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وہ لزبن کے غریب علاقوں میں سماجی ترقی کے منصوبوں پر کام کرنے والی ایک تنظیم کے صدر بھی رہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا اختتام جمعرات کو متوقع ہے، جس کے بعد وہ نیویارک واپس روانہ ہوں گے۔

Scroll to Top