کرک : پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے تازہ پیش رفت سامنے آگئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی تاحال کرک کے ڈپٹی کمشنر سرکٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے دوپہر 2 بجے کے بعد کرک کی جانب روانہ ہونے کا امکان ہے۔ جلسہ گاہ میں اس وقت 400 سے 500 کارکن موجود ہیں۔
لانگ مارچ کے اگلے پڑاؤ کے لیے لچی گراؤنڈ کو مقرر کیا گیا ہے، جو کوہاٹ شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر پہلے واقع ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو بڑے بڑے دعوے کیے تھے کہ وہ لاکھوں لوگوں کو نکالیں گے، تاہم اس وقت مجموعی طور پر 400 سے 500 افراد بھی جمع نہیں ہو سکے۔
مارچ جہاں جہاں سے گزرا، وہاں عوام کی جانب سے بھی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ مقامی لوگوں کی جانب سے لانگ مارچ میں شرکت کے حوالے سے کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آئی، جس کے باعث پی ٹی آئی کے بڑے عوامی اجتماع کے دعووں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ورکر سڑکوں پر اسلحہ بردار، لیڈر بم پروف بلٹ پروف گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپے ہوئے، خواجہ آصف
خیبر پختونخوا عوام کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران جہاں جہاں سے قافلہ گزرا، وہاں انتشار کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ روز اپر وزیرستان میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر دھاوا بولنے اور سیدھی فائرنگ کرنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
عوام کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے توڑ پھوڑ اور انتشار کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بدامنی کی آگ لگی ہوئی ہے، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی توجہ صرف ایک قیدی کی رہائی اور سیاسی انتشار پھیلانے پر مرکوز ہے۔
پی ٹی آئی کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا ’عوامی سمندر‘ کا پروپیگنڈا بھی شہریوں کے مطابق زمین بوس ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر نکل کر حکومت کو ہلا کر رکھ دے گا، تاہم مارچ شروع ہوتے ہی گلی محلوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر وہ عوامی جوش و خروش دکھائی نہیں دیا جس کے دعوے کیے جا رہے تھے۔
عوام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں نے تحریک انصاف کی انتشار پر مبنی سیاست میں شامل ہونے سے گریز کیا، جس کے باعث مارچ کے حوالے سے کیے گئے بڑے دعوے کمزور دکھائی دینے لگے ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما جن گاڑیوں اور ڈائس پر کھڑے ہو کر فتح کی باتیں کر رہے تھے، ان کے گرد چند درجن سے زیادہ افراد جمع نہ ہو سکے۔ مارچ کا جہاں جہاں سے گزر ہوا، وہاں کے مقامی باشندوں نے نہ صرف ان کا ساتھ دینے سے گریز کیا بلکہ اس سیاسی سرگرمی پر سخت تنقید اور بیزاری کا اظہار بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں : بلند و بانگ دعوے اور خالی سڑکیں، قیادت بھی غائب، کارکن بھی غائب
لوگوںکے مطابق عوام نے اپنے ردعمل سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو متاثر کرنے، افراتفری پھیلانے اور سیاسی مفادات کے لیے ریاست پر دباؤ ڈالنے والی سیاست کو مسترد کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے دعووں پر ہفتوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری مہم کے باوجود لانگ مارچ میں توقع کے مطابق عوامی شرکت نظر نہ آنے پر پارٹی قیادت کو تنقید کا سامنا ہے۔
دوسری جانب لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کے پی عوام کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی، آئین کی پاسداری اور انصاف کی بات کرنے والی تحریک انصاف کا قانون سے متعلق مؤقف ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات اور عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے سرکاری مشینری اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں کے استعمال کی اجازت دی۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی درجنوں سرکاری املاک، سرکاری گاڑیاں، کرینیں اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عام شہریوں کے مطابق سرکاری وسائل کا سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ صرف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ عوامی خزانے کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
لانگ مارچ کے دوران 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا، تاریخی مجسمے توڑے، ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا اور قلعہ بالاحصار پر دھاوا بولا تھا۔
ان کے مطابق موجودہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران بھی انتشار اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے خدشات موجود ہیں۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی بدامنی، دہشت گردی اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کی جانب سیاسی مارچ پر توجہ مرکوز کرنا عوامی سطح پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔





