خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جاری ڈاکٹروں کے احتجاج اور ہڑتال کے دوران ڈیوٹی انجام دینے والے طبی عملے کے لیے تنخواہوں اور وظائف میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔
حکومت کے مطابق یہ مالی اضافہ صرف ان میڈیکل افسران، ہاؤس افسران اور ٹرینی میڈیکل افسران (TMOs) کے لیے ہوگا جنہوں نے احتجاج کے دوران ہڑتال میں شامل ہونے کے بجائے اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھیں۔
پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (PGMI) نے تمام میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز (MTIs) سے ایسے میڈیکل افسران اور ٹرینیز کی تفصیلی فہرستیں دو روز کے اندر طلب کرلی ہیں جنہوں نے ہڑتال کے دوران ڈیوٹی انجام دی۔
حکام کے مطابق متعلقہ شعبے کے چیئرپرسن کی جانب سے حاضری اور ڈیوٹی ریکارڈ کی باقاعدہ تصدیق ضروری ہوگی۔ محکمہ صحت کے مطابق صرف ڈیوٹی انجام دینے والے ٹرینیز اضافی 15 فیصد وظیفے کے حقدار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ
دوسری جانب ہڑتال میں شریک ڈاکٹروں اور ٹرینیز کے لیے 15 فیصد اضافے یا دیگر مطالبات کا معاملہ وسیع تر تنازع کے حل تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
ادھر صوبے کے ینگ ڈاکٹرز اور طبی تنظیمیں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے بدستور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طبی حلقوں کی جانب سے مہنگائی اور دیگر صوبوں میں دیے جانے والے پیکیجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔





