امریکہ نے ایران کیساتھ مشروط معاہدے کی حامی بھرلی

امریکہ نے ایران کیساتھ مشروط معاہدے کی حامی بھرلی

 امریکہ نے ایران کیساتھ مشروط معاہدے کی حامی بھرلی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کنے کہا ہے کہ ایران سے معاہدے کیلئے تیار ہیں، لیکن تہران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی اور اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔

  خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ۔یہ واضح نہیں کہ ایران فیصلے کس طرح کرتا ہے، محض مستقبل میں جوہری سرگرمیوں میں کمی کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی، اگرایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تو پھر 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا توانتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کرے، امریکہ ایران سے معاہدے کیلئے اب بھی تیار ہے، لیکن ایران کو جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو یہ معلوم نہیں کہ تہران میں فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے، امریکا ایرانی صدر اور وزیرخارجہ سے مذاکرات کر رہا ہے۔

نائب امریکی صدر کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایران کے طاقت کے ڈھانچے میں ان دونوں کے پاس کتنے اختیارات ہیں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ میدان جنگ کی صورتحال پر فیلڈ کمانڈروں سے بات کی ہے، ایران کےخلاف جنگ میں ہتھیاروں کی کمی کا سامنا نہیں، ایران وقتاً فوقتاً تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں نشانہ بنا رہا ہے، ایران ہرمز سے توانائی کی برآمدات روکنے میں بڑی حد تک ناکام ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے کا بڑا فیصلہ

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب لڑنے کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں کر سکا۔

Scroll to Top