پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن سے تنگ آکر تحصیلدار کا چارج چھوڑنے کا اعلان

پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن سے تنگ آکر تحصیلدار گڑیوم ملک عابد اللہ وزیر نے 25 دن بعد ہی چارج چھوڑنے کا اعلان کر دیا

پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن سے تنگ آکر تحصیلدار گڑیوم ملک عابد اللہ وزیر نے 25 دن بعد ہی چارج چھوڑنے کا اعلان کر دیا ۔

شمالی وزیرستان میں سب ڈویژن رزمک کی انتظامیہ پر سنگین بدعنوانی کے الزامات سامنے آگئے، تحصیلدار گڑیوم ملک عابد اللہ وزیر نے حکومتی ملی بھگت سے چلنے والے کرپشن کے منظم نیٹ ورک سے تنگ آکر 25 روز بعد چارج چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

ملک عابد اللہ وزیر کے مطابق سب ڈویژن رزمک میں پرسنٹیج کی بنیاد پر مالِ غنیمت تقسیم کیا جا رہا ہے، جبکہ نچلے عملے سے لے کر اعلیٰ دفاتر تک منظم بدعنوانی جاری ہے۔

تحصیلدار گڑیوم نے ڈی سی شمالی وزیرستان اور کمشنر بنوں کو خفیہ رپورٹ بھی ارسال کر دی ہے، جس میں انتظامی معاملات میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق تفصیلات درج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سٹیمپ پیڈ، قبضہ شدہ گاڑیاں، ادویات اور کپڑے تقسیم کیے جاتے ہیں، جبکہ کرپشن کے اس نیٹ ورک میں غیر مقامی افراد بھی ملوث ہیں۔

ملک عابد اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ ضمیر اور سرکاری حلف انہیں اس نظام کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتا، اسی لیے وہ 25 روز بعد موجودہ چارج چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

تحصیلدار گڑیوم نے کہا کہ شواہد طلب کیے گئے تو وہ پیش کریں گے، جبکہ انہیں کسی ایسے اسٹیشن پر منتقل کیا جائے جہاں وہ دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

پی ٹی آئی گزشتہ کئی سال سے خیبرپختونخوا میں شفافیت، میرٹ اور کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن سرکاری افسر کی جانب سے اپنی ہی حکومت کے انتظامی نظام پر ایسے سنگین الزامات ان دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

ایک سرکاری افسر کا کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے چارج چھوڑنے کا اعلان کرنا پی ٹی آئی حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر انتظامیہ میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی موجود ہے تو ان الزامات کی فوری اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں؟

عوامی وسائل، سرکاری سامان اور ترقیاتی و انتظامی معاملات میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی براہِ راست عوام کے حقوق پر ڈاکا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ سرکاری اداروں میں کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔

Scroll to Top