اسلام آباد : وزیراعظم کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کا انتہائی اہمیت کا حامل اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے، جس میں خیبرپختونخوا میں حکومتی نظم و نسق کی ابتر صورتحال، سیکورٹی چیلنجز اور گورننس کے بگاڑ کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے فوری نوعیت کے اہم ترین فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کے شدید بحران کے پسِ پردہ اسباب، ذمہ داریوں کا تعین، کاؤنٹر ٹیررازم کے انتظامی ڈھانچے میں موجود نقائص اور سیکورٹی اداروں کی آپریشنل تیاریوں پر باریک بینی سے غور کیا گیا۔
کابینہ کمیٹی نے صوبائی انتظامیہ کی غفلت، ادارہ جاتی کمزوریوں اور دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے میں عدم دلچسپی پر شدید تشویش ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کیوں نہ لگے؟ دو سال میں 6 ہزار 200 دہشت گردی کے واقعات، 1200 افراد جاں بحق
اس موقع پر خیبرپختونخوا پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی دو خصوصی سیکورٹی رپورٹس نے سنسنی خیز انکشافات سامنے لا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا گراف تیزی سے اوپر گیا ہے۔ افغانستان میں موجود شرپسند عناصر اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے علاوہ صوبائی حکومت کا نرم گوشہ اور ناکام پالیسیاں اس صورتحال کی بنیادی وجہ بنی ہیں، جس سے انسدادِ دہشت گردی کی قومی حکمتِ عملی کو سخت نقصان پہنچا۔
سیکورٹی رپورٹ کے حتمی اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں خیبرپختونخوا کے اندر دہشت گردی کے خوفناک واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزید برآں غیر قانونی سرگرمیوں، دہشت گرد نیٹ ورکس اور مقامی سطح پر معاونت فراہم کرنے والے عناصر کے آپسی روابط نے صورتحال کو نہایت پیچیدہ اور تشویشناک بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے معاملے پر آج اہم پیشرفت متوقع، وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب
رپورٹ کے مطابق رواں سال 2026 میں پیش آنے والے کل دہشت گردانہ حملوں کا 73 فیصد حصہ براہِ راست پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
رپورٹ میں سب سے سنسنی خیز انکشاف دہشت گردوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی بالخصوص ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں سیکیورٹی فورسز پر ڈرون حملے کا کوئی واقعہ درج نہیں ہوا تھا، تاہم 2026 میں یہ تعداد تشویشناک حد تک بڑھ کر 170 تک پہنچ گئی جو محض ایک سال میں 107 فیصد کے قریب اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس کے علاوہ آئی ای ڈی (دیسی ساختہ بموں) کے حملوں کا سلسلہ بھی تھم نہ سکا۔ سال 2025 کے دوران ایسے 181 دھماکے ہوئے، جبکہ رواں سال ستمبر تک ہی 159 بارودی حملے رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔
رپورٹ نے صوبائی پولیس فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے سنگین لاجسٹک اور انتظامی بحران کو بھی بے نقاب کر دیا ہے:
خالی آسامیاں: خیبرپختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد نشستیں خالی پڑی ہیں جبکہ سی ٹی ڈی میں خصوصی نفری کی شدید قلت کی وجہ سے اسے عام پولیس لائنز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم دیں گے، فیصل کریم کنڈی
جدید آلات کی عدم دستیابی:فورس کو تھرمل امیجنگ، نائٹ ویژن، جدید سرویلنس اور جدید ترین اسلحے کی شدید قلت درپیش ہے۔
جنوبی اضلاع کی بے بسی: دہشت گردی سے شدید متاثرہ جنوبی اضلاع میں اینٹی مائن اور بکتر بند گاڑیوں کی عدم دستیابی نے پولیس کی پیش قدمی اور دفاعی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔
محذود انفراسٹرکچر:پورے صوبے کے لیے تیار کردہ ‘سیف سٹی پروجیکٹ اب تک صرف پشاور سے آگے نہیں بڑھ سکا، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی پولیس تربیت اور آپریشنل وسائل سے تاحال محروم ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے متوقع نفاذ کی خبروں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو مدنظر رکھتے ہوئے، وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کر دیے گئے ہیں۔
پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری طلب کر کے حساس مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا قانون شکنی سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔





