پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر صوبے بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے انتظامیہ متحرک ہے، جبکہ بعض مقامات پر بدامنی پھیلانے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ایک ٹولے نے گورنر راج کے خلاف احتجاج کیا، جس کے دوران مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور علاقے میں ہنگامہ آرائی کرنے کی کوشش کی۔
🚨🚨پی ٹی آئی کے انشتاری ٹولے کی باڑہ ضلع خیبر میں فائرنگ، فساد برپا کرنے کی ناکام کوشش۔ پولیس کا جوابی دفاعی ایکشن۔ فائرنگ کرنے والے فسادی گرفتار https://t.co/jIqkATNJuq
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) October 12, 2026
احتجاج میں شریک عناصر نے ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ کر دی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) کے مطابق مظاہرین کی جانب سے فائرنگ اور فساد برپا کرنے کی اس ناکام کوشش کے جواب میں پولیس نے فوری طور پر اپنا دفاعی ایکشن لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
پولیس نے اپنے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے فائرنگ کرنے والے عناصر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا، جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاورمیں اہم اجلاس آج طلب، بڑے فیصلے متوقع، وفاقی وزیر داخلہ بھی پشاور پہنچ گئے
ڈی پی او خیبر نے واضح اور سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون اور امن و امان اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامیہ نے قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لیے دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور اسی سلسلے میں ضلع صوابی میں بھی پولیس نے شرپسند عناصر کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا ہے۔





