پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال میں تناؤ برقرار ہے، تاہم ضلع خیبر کے علاقوں باڑہ اور جمرود میں پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی احتجاجی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں علاقوں میں مظاہرین کی تعداد انتہائی محدود رہی جبکہ بیشتر مقامات پر سڑکوں پر موجود تماشائیوں کی تعداد احتجاج میں شامل افراد سے زیادہ دیکھی گئی۔
باڑہ کے علاقے عالم گودر میں گورنر راج کے خلاف مظاہرے کے دوران بدامنی اور فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق احتجاج میں شامل ایک کارکن اپنے ہی ساتھی کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد مظاہرین میں سراسیمگی پھیل گئی اور منتشر ہونے کی کوششیں کی گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی ہدف بنا کر فائرنگ کی گئی، جس پر پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث عناصر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا اور علاقے کا محاصرہ کر کے صورتحال پر قابو پا لیا۔
واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی پی او خیبر نے واضح اور سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : 9 مئی کے فسادیوں کی ہٹ دھرمی ناکام ، سہیل آفریدی سمیت 5 پی ٹی آئی رہنما چالان میں نامزد
انہوں نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے، پولیس فورس پر حملہ کرنے اور شہریوں کے لیے خطرہ بننے والے شرپسند عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔
باڑہ عوام کا کہنا ہے کہ باڑہ میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ اور عوام کی عدم توجہی کے باعث پی ٹی آئی کا احتجاجی بیانیہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔





