وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی ، اتفاق رائے کے بعد مذاکرات کو سبوتاژ کیاگیا ، ہمارے لیے اب نہیں تو کبھی نہیں والی گھڑی تھی، مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات میں سب کچھ طے ہونے کے قریب تھا، پی ٹی آئی کے وفد نے آخر میں کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت سے بات کرنی ہے ،وہاں شاید ان کو دوسرا 9 مئی کرنے کا حکم تھا تو سب کچھ خراب کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اب نہیں تو کبھی نہیں والی گھڑی تھی، مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا ، یہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی تعاون کی یقین دہائی کرائی تھی ، سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، سابق وزیراعلیٰ نے جس طرح کی باتیں کیں وہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا ۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج نافذ ہوتے ہی وفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے بڑا اعلان
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں دہشتگردوں کو خیبرپختونخوا میں لایا گیا، پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشت گرد آنا شروع ہوئے، پی ٹی آئی کی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے پر تلی ہوئی تھی ، یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستانی کی خوشحالی کیلئے ہمیشہ قربانیاں دیں، امن کے لیے سیاستدانوں نے قربانیاں دیں اور خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا تھا۔





