خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

اسلام آباد: عالمگیر سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حالیہ حملے اور ایرانی حکام کا مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے کا اعلان ہے۔

 خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی اس تناؤ کی فضا اور تیل کی قیمتیں اونچی رکھنے کی کوششوں نے بین الاقوامی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس کا اثر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں پر نمایاں طور پر دیکھا گیا جہاں قیمت 37 سینٹ یعنی 0.35 فیصد اضافے کے بعد 106.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

 دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 95 سینٹ یعنی 1.01 فیصد مہنگا ہو کر 95.09 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کی بلند ترین سطح شمار کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں گورنر راج، افغانستان سے مراد سعید کے رابطے اور 15 نئے صوبوں کا نقشہ! نامور تجزیہ کار اقبال لطیف کاتہلکہ خیز انٹرویو

بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے، اور دوسری طرف سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جاری جھڑپیں عالمی سطح پر انرجی مارکیٹ میں اس قیمت کے اچھال کی بنیادی وجہ ہیں۔

ایرانی حکام نے تجارتی جہازوں کو ہدف بنانے کے نئے طریقے کار کی کھل کر تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ تقریباً دس دن قبل ان کی جانب سے حملوں کی اس نئی حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے۔

خطے کے موجودہ حالات بالکل اسی طرح کے شدید معاشی اور سیاسی بحران کا پیش خیمہ دکھائی دیتے ہیں جیسے کچھ دن پہلے خیبر پختونخوا میں انتشاری تحریک کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے سخت اقدامات نافذ کیے گئے تھے تاکہ امن و امان اور معاشی استحکام کو قائم رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : فاتح سومنات نے کچن کے سٹور میں پناہ لی تھی،اندرونی کہانی سامنے آگئی

بالکل اسی طرز پر اب عالمی سطح پر بھی انتشاری ٹولہ اور دہشت گرد عناصر سپلائی چین اور معاشی سکون کو تاراج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کا براہ راست اثر عام مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔

اگرچہ خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی کوششیں جاری ہیں اور ستمبر میں ایران کے سوا دیگر تمام خلیجی ریاستوں سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جو جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے بھی اوپر جا پہنچی ہے، جس میں سعودی برآمدات کی بحالی نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے، تاہم امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی اپنی برآمدات مکمل طور پر صفر ہو چکی ہیں۔

 اس صورتحال میں حوثیوں اور ایران سے منسلک غیر مستحکم کرنے والے گروہوں کی جانب سے پیدا کردہ یہ تناؤ عالمی اقتصادیات کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

Scroll to Top