پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں 6 نکاتی ایجنڈا جاری

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی کی لہر اور پی ٹی آئی کی انتشاری تحریک کے باعث پیدا ہونے والے شدید انتظامی و آئینی بحران کے بعد صوبے میں نافذ کیے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کی آئینی و قانونی توثیق کا اہم ترین مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

 اس سلسلے میں پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) کا اہم مشترکہ اجلاس آج دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے جس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق کریں گے۔

 اجلاس کے لیے 6 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کی کاپی ایوان کے سامنے پیش کریں گے۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی منظوری کے لیے الگ الگ قراردادیں پیش کی جائیں گی، جن پر سیر حاصل بحث کے بعد پارلیمنٹ ان دونوں قراردادوں کی حتمی منظوری دے گی۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے کچھ عرصے سے امن و امان کی ابتر صورتحال، بڑھتی ہوئی بدامنی، سرحد پار سے دہشت گردی کی لہر اور انتشاری ٹولے کی جانب سے قائم کردہ انتظامی عدم استحکام کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ریاست کی حاکمیت کو یقینی بنانے کے لیے آئینی اقدامات کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا سخت قدم اٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : انتشاری ٹولے نے مساجد کو بھی نہ چھوڑا، سولرائزیشن پروجیکٹ میں کروڑوں کے گپھلے سامنے آ گئے

 اس آئینی عمل کی کڑی کے طور پر گزشتہ روز قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا (سینیٹ) کے الگ الگ اجلاسوں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ابتدائی توثیق بھی کی جا چکی ہے۔

گزشتہ روز ایوان کے اندر شدید سیاسی گرم جوشی اور ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں زبردست شور شرابا اور احتجاج کیا، جبکہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔

اس کشیدہ سیاسی ماحول کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے معاملے کو فہم و فراست سے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔

 اس کے علاوہ اسپیکر نے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکینِ اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل اور داوڑ کنڈی کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کر دیے ہیں تاکہ وہ آئینی و پارلیمانی عمل کا حصہ بن سکیں۔

Scroll to Top