کاکول: نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر جنرل سید عامر رضا نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم اپنی خودمختاری اور سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ پاک فوج ہر نوعیت کے خطرات کا شایانِ شان جواب دینے کی کامل صلاحیت رکھتی ہے۔
وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں 154ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے واضح کیا کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی جارحیت، علاقائی خودمختاری اور سرحدوں کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی ہے، اور اسلام آباد معاہدے جیسی پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے لازوال عزم کا مظہر ہے۔
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے مسئلہ کشمیر کو تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : عزم و ہمت کی شاندار داستان، کاکول اکیڈمی سے 154 ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد، کیڈٹس کا دفاعِ وطن کا عزم
علاوہ ازیں، فلسطین کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں اور عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
جدید جنگی تقاضوں پر بات کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے جنگوں کی نوعیت بدل دی ہے، جس کے پیش نظر مسلح افواج نے بھی اپنی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔
انہوں نے نئے افسران کو ہدایت کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کریں اور مضبوط کردار، حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ فوج کی قیادت کریں۔
انہوں نے اکیڈمی سے کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والے پاکستانی کیڈٹس سمیت بنگلہ دیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن سے تعلق رکھنے والے فارغ التحصیل کیڈٹس کو مبارکباد دی۔
آخر میں انہوں نے کیڈٹس کے والدین اور پی ایم اے کے اساتذہ و انسٹرکٹرز کی کاوشوں اور خدمات کو سراہا۔





