پشاور: خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر صوبائی پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر نئی منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی خصوصی ہدایت اور اعلان کے بعد صوبے بھر میں پولیس لائنز، تھانوں، سکیورٹی چیک پوسٹوں اور اہم سیف سٹی منصوبوں کے رکے ہوئے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ شروع کرنے کی جامع حکمتِ عملی تیار کر لی گئی ہے۔
اس نئی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ماضی کی شدید سست روی اور تاخیر کے شکار ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنا، انتظامی و قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا اور دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبہ بندی کے پہلے مرحلے میں صوبے بھر خصوصاً ضم شدہ اضلاع (فاٹا) میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جن اہم منصوبوں میں زمین کی عدم دستیابی، ملکیتی تنازعات یا فنڈز کے اجرا میں تاخیر جیسے مسائل حائل تھے، انہیں حل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام کے مابین سخت رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی میں ان پروجیکٹس کو سرفہرست رکھا گیا ہے جن پر پہلے ہی خطیر سرکاری رقم خرچ ہو چکی ہے لیکن وہ طویل عرصے سے التوا کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ترقی رکے گی نہیں، شفافیت کے ساتھ جاری رہے گی، نئے سیٹ اپ کے تحت شاہد آفریدی اسٹیڈیم اور ضلع خیبر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے سے نہ صرف عوامی ٹیکس کے اربوں روپے کا ضیاع روکا جا سکے گا بلکہ تاخیر کے باعث بڑھنے والے اضافی اخراجات پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
بالخصوص ضم اضلاع میں منظور شدہ پولیس لائنز، تھانوں اور جدید چیک پوسٹوں کی تعمیر سے حساس علاقوں میں پولیس کی عملی استعداد، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اہلکاروں کو درکار سہولیات میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
اس کے ساتھ ساتھ پشاور سمیت دیگر بڑے اور حساس شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کو جلد فعال کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ جدید سمارٹ مانیٹرنگ اور جدید ترین تکنیکی نظام کے ذریعے امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنایا جا سکے۔
سکیورٹی کے مطابق موجودہ حالات میں سکیورٹی اداروں کو تمام تر ضروری اور جدید سہولیات کی بروقت فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے اور موجودہ سیٹ اپ کی یہ پیش رفت صوبے میں امن کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو گی۔





