بابر اعظم نے ہاشم آملہ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

 پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے لیجنڈری بلے باز ہاشم آملہ کا ایک اور عالمی ریکارڈ توڑ کر اپنے نام کر لیا ہے۔

 بابر اعظم ون ڈے کرکٹ میں 141 اننگز کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن گئے ہیں۔ انہوں نے سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں سری لنکا کے خلاف 45 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جس کے بعد ان کے ون ڈے رنز کی مجموعی تعداد 6671 ہو گئی ہے۔

 اس فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہاشم آملہ نے 141 اننگز میں 6626 رنز بنائے تھے جبکہ بھارتی بلے باز ویرات کوہلی 6224 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

اسی میچ کے دوران بابر اعظم نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز بھی مکمل کر لیے ہیں، اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پانچویں پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ ہدف 399 اننگز میں حاصل کیا۔

ان سے قبل پاکستان کی جانب سے محمد یوسف نے 388، جاوید میانداد نے 398، انضمام الحق نے 432 اور یونس خان نے 449 اننگز میں یہ سنگِ میل عبور کیا تھا، جس سے بابر اعظم تیز ترین 16 ہزار رنز بنانے والے پاکستانیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم کا تعلق کرکٹ سے وابستہ اکمل برادران کے خاندان سے ہے اور انہوں نے جونیئر کرکٹ کے تمام مراحل طے کرتے ہوئے قومی ٹیم میں جگہ بنائی۔

یہ بھی پڑھیں : سہ ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دی

 وہ 2008 میں انڈر 15 اور بعد ازاں 2010 و 2012 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کے ٹاپ اسکورر رہے تھے۔ زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز سے انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے بابر اعظم نے 2016 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل 3 ون ڈے سنچریاں اسکور کر کے دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا تھا۔

اس کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی اور پاکستان کے مرکزی بلے باز بن کر سامنے آئے۔

بابر اعظم ون ڈے میں تیز ترین 2 ہزار رنز مکمل کرنے والے مشترکہ طور پر دوسرے اور ٹی 20 میں تیز ترین ایک ہزار رنز بنانے والے بیٹر بھی رہے۔

 سال 2022 میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 4 سنچریوں کی مدد سے 1184 رنز بنائے اور دنیا کے سرفہرست 3 بیٹرز میں جگہ بنائی۔

 اگرچہ 2023 کے ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور بعد میں فارم کی خرابی کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا، تاہم اس وقت وہ بطور سینئر بلے باز قومی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اب بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے کپتان کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

Scroll to Top