کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل ہو گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ سکیورٹی وجوہات کے بجائے سراسر سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
وکلا نے دلائل دیے کہ آئین کے تحت ایمرجنسی صرف جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں نافذ کی جاسکتی ہے جبکہ صوبے میں ایسی کوئی صورت حال موجود نہیں تھی۔
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ جب صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملے عروج پر تھے تو اس وقت ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی گئی؟
وکلا کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کا اطلاق اسی وقت ہوسکتا ہے جب صوبائی حکومت امور چلانے کے قابل نہ رہے، جبکہ صوبائی اسمبلی اور حکومت مکمل طور پر کام کررہی تھیں اور آئینی نظام کے تعطل کی کوئی صورت حال نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ پٹواری راج اور رشوت کے اڈے تہس نہس، بدعنوان مافیا کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے اور اس طرح وزیراعلیٰ کے اختیارات واپس نہیں لیے جاسکتے۔
بیرسٹر سمیر کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ گورنر راج کے بعد وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا، اور اگر مقصد دہشت گردی کا مقابلہ ہے تو کارروائی اسی مقصد تک محدود ہونی چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست دی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی صورت حال زیادہ سنگین ہونے کے باوجود وہاں ایسے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ترقی رکے گی نہیں، جاری رہے گی، کمشنر ہزارہ کا زمینداروں کے لیے بڑا اعلان
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خیبر پختونخوا کو پنجاب کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہو۔
گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت میں قراردادیں اکثریتی ووٹوں سے منظور کی تھیں۔اس معاملے پر پارلیمان میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال اور وفاقی فیصلے پر گرما گرم بحث ہوئی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کو صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں آئینی اقدام قرار دے کر اس کا دفاع کیا، جبکہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی رابطے اور مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا۔





