اسلام آباد: پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے خیبرپختونخوا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا سب سے بنیادی اور سنگین مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور دفاع کی ضامن ہے، جس کی عظیم قربانیوں پر پوری قوم کو بے پناہ فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے جوان محض تنخواہوں کے لیے سرحدوں پر نہیں لڑتے بلکہ وہ وطن عزیز کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
معدنی وسائل کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حوالے کرنے کے خدشات پر بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ محض خدشات اور ہوا میں تیر چلانے کے بجائے فضل الرحمان ان مخصوص معاہدوں کی نشاندہی کریں جن کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔
محض سیاسی تاثر قائم کرنے کے لیے یہ کہنا درست نہیں کہ مختصر عرصے میں ملک کے اثاثے کسی کو دیے جا رہے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی دباؤ يا معدنی وسائل کے بجائے شہدا کے یتیم بچوں اور بیواؤں کی قربانیوں کو مدنظر رکھ کر بات ہونی چاہیے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج سے متعلق دیے گئے حالیہ بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور دل آزاری کا باعث قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ، 12 اضلاع پر مشتمل کونسل کا بڑا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ شہدائے وطن کی لازوال قربانیوں کا تنخواہوں کے ساتھ موازنہ کرنا انتہائی شرمناک ہے اور سیاسی رہنماؤں کو اقتدار سے محرومی کے غصے میں قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ فضل الرحمٰن کی اپنی فیملی سمیت ہزاروں خاندان دہشت گردی کے ناہنجار واقعات کا شکار ہو چکے ہیں، اس کے باوجود سیکورٹی اداروں پر تنقید کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی رہنما دہشت گردی کے واقعات کی واضح مذمت تک کرنے سے کتراتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اکثر و بیشتر شہدا کے جنازوں میں شرکت تک نہیں کرتے، جس سے ان کے رویوں پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
ماضی کے سیاسی تضادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو پی ٹی آئی ماضی میںفضل الرحمٰن پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرتی تھی اور انہیں نامناسب القابات سے پکارتی تھی، آج فضل الرحمان صاحب کا ان کی حمایت میں کھڑے ہونا ماضی کے رویوں پر گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا ہتھکنڈا اب نہیں چلے گا، فضل الرحمٰن اور ان کے بیٹوں کے خلاف بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ
خیبرپختونخوا کی انتظامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج ایک ناپسندیدہ اقدام ہے، لیکن صوبے کی موجودہ نازک مجبوریوں اور حالات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور اس کی حمایت کی جائے گی۔
انہوں نے صوبے میں معدنیات کے غیر قانونی استعمال اور اس سے مستفید ہونے والے عناصر پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے قومی سلامتی کے اداروں کی عظیم قربانیوں کا اعتراف اور احترام کرنا ہم سب کے لیے ناگزیر ہے۔





