کرپشن کی کمائی سے بنے پرتعیش محلات اور مہنگی گاڑیاں، فضل الرحمان کا مذہب کارڈ اور ڈرامے بازی ختم

پشاور: خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے ناطق خاتمے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے ممکنہ اقدامات کو معدنیات پر قبضے سے جوڑنے والے فضل الرحمان کے انتہائی زہریلے اور گمراہ کن بیانیے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ 

سینیئر سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین نے فضل الرحمان کے اس من گھڑت تاثر کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اسلام اور دین کا مقدس نام استعمال کر کے اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والے اور شاہانہ محلات بنانے والے عناصر آخر کب تک قومی سلامتی کے حساس ترین معاملے پر زہریلی سیاست کرتے رہیں گے؟

تجزیہ کاروں نے حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ فضل الرحمان کی بوکھلاہٹ کو طشت از بام کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور صوبے کے امن پر وفاق نے 800 ارب روپے کے بھاری وسائل نچھاور کیے، جبکہ صوبے کو معدنیات کی مد میں محض 18 ارب روپے حاصل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام کا نام، لوٹ مار کا کام، فضل الرحمان کے ریاست دشمن بیانات ان کے سیاہ کارناموں پر پردہ نہیں ڈال سکتے، فرح عظیم شاہ

 سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان اور عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کے تمام الزامات محض سیاسی ڈرامے بازی اور اپنی بچی کھچی سیاست کو سہارا دینے کی ناکام کوششیں ہیں۔

 افغانستان سے آنے والے خونخوار دہشت گرد کیا صوبے کے پہاڑ اور معدنیات نکالنے آتے ہیں یا معصوم شہریوں اور فورسز کا خون بہانے؟ اس زہریلے بیانیے نے ثابت کر دیا ہے کہ فضل الرحمان ریاست دشمن عناصر کی بولی بول رہے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کاروں کے مطابق فضل الرحمان، جو خود اپنے آبائی حلقے اور صوبے میں خوف کے باعث قدم رکھنے سے کتراتے ہیں، آج گورنر راج اور امن کے قیام کے اقدامات کی مخالفت محض اس لیے کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں بدامنی قائم رہے اور ان کا کرپٹ سیاسی دھندا چمکتا رہے۔

 منیب فاروق سمیت دیگر ماہرین نے للکارتے ہوئے کہا کہ اگر فضل الرحمان کے پاس معدنیات کے ٹھیکوں یا کرپشن کے حوالے سے کوئی ایک بھی سچا ثبوت ہے تو وہ قوم کے سامنے رکھیں، ورنہ مذہب کے مقدس نام پر لوٹ مار کا ناٹک بند کریں۔

 2013 سے لے کر 2026 تک معدنیات کی لوٹ مار میں کون کون سے کرپٹ ٹولے شامل رہے، اس کا کچا چٹھا اب عوام کے سامنے آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لوٹ مار کی تمام حدیں پار، تحریکِ انتشار کے دورِ اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقاب

حقیقت یہ ہے کہ فضل الرحمان کی سیاسی دکان اور کرپشن کے پیسوں سے بنے پرتعیش محلات کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اپنی زوال پذیر سیاست، عوام میں ملنے والی شدید ذلت اور مالی بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے دین اور مذہب کارڈ کا استعمال اب مزید نہیں چلے گا۔

 قومی سلامتی، شہدا کی قربانیوں اور ریاست پاکستان کی بقا کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے والوں کو قوم اب جوتوں کی نوک پر رکھتی ہے اور ان کے ان سیاہ کارناموں پر کسی بھی صورت پردہ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔

Scroll to Top