ضلع نوشہرہ میں اضاخیل گودام میں پڑی ہزاروں میٹرک ٹن ناقص اور مضر صحت گندم کے ذخیرہ پر چھاپہ

پشاور:پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے 13 سالہ دورِ اقتدار کا ایک اور ہولناک گندم سکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے، جو اس بدترین طرزِ حکمرانی کی اصل کہانی کو بے نقاب کرتا ہے جسے سالہا سال سوشل میڈیا کی مصنوعی تبدیلی سے چھپایا جاتا رہا، جہاں ضلع نوشہرہ کے اضاخیل گودام میں پڑی ہزاروں میٹرک ٹن ناقص اور مضرِ صحت گندم کے ذخیرے پر اچانک چھاپہ مار کر کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13سالہ اقتدار کے دوران خیبر پختونخوا میں کرپشن، نااہلی اور لوٹ مار کا ایک اور بھیانک و مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

 صوبائی حکومت کی جانب سے ہمیشہ یہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا کہ پنجاب انہیں گندم کم دیتا ہے، اور اسی جھوٹے پروپیگنڈے اور بلیک میلنگ کی آڑ میں وہ وفاق اور پنجاب سے زیادہ گندم حاصل کرتے رہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی ہے۔

نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم کے گودام پر گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک چھاپے نے پی ٹی آئی کے تمام جھوٹے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دی ہیں، جہاں گوداموں میں غلہ غائب اور بوریوں میں صرف مٹی اور ریت بھری ہوئی پائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 10 کروڑ روپے تک قرض حاصل کریں، وہ بھی بلاسود

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں جو گندم سرکاری کھاتے میں منگوائی جاتی تھی، اسے مبینہ طور پر قومی خزانے میں محفوظ بنانے کے بجائے افغانستان اسمگل کر دیا جاتا تھا، اور پیچھے خالی ہونے والی بوریوں کو ڈھکنے اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے لیے ان میں مٹی اور ریت بھر دی جاتی تھی۔

اضاخیل کے سرکاری گودام میں ہونے والے اس ہوشربا انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ تیرہ سال تک صوبے کے عوام کو خوراک کی کمی کا جھوٹا رونا رو کر بے وقوف بنایا جاتا رہا، جبکہ حقیقت میں حکومتی سرپرستی میں سرکاری گندم کی اسمگلنگ کا ہولناک دھندا جاری تھا۔

گورنر انسپکشن ٹیم کی اس بروقت اور سخت کارروائی نے پی ٹی آئی کی انتظامی نااہلی اور بدترین کرپشن کے گندے جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عوام کے حقِ حلال کے وسائل کو لوٹنے والے یہ عناصر سالہا سال تک اداروں کو بلیک میل کرتے رہے اور صوبے کے غریب عوام کو آٹے کے حصول کے لیے سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت گر گئی، چاندی کے نرخوں میں بھی کمی ریکارڈ

موجودہ صورتحال میں یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ اضاخیل سمیت صوبے بھر کے تمام سرکاری گوداموں کے اسٹاک رجسٹرز، ترسیلی دستاویزات اور خرید و فروخت کا فوری اور غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے۔

عوام یہ جاننے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ان کے ٹیکسوں کے پیسوں سے خریدی گئی گندم کو کس مکروہ طریقے سے چوری کر کے افغانستان کے راستے اسمگل کیا گیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت، سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور ریکارڈ میں جعل سازی کرنے والے تمام عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے اور قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

Scroll to Top