سانحہ دیر کالونی، پشاور ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

سانحہ دیر کالونی سے متعلق پشاور ہائیکورٹ بار کی درخواست پر عدالت نے مختصر حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، نجی سکول ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور 14 روز میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

درخواست کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار کے صدر، ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل آفس کے لا افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

پشاور ہائیکورٹ بار کی جانب سے دائر درخواست میں سانحے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ اور خاتون ٹیچر کے لواحقین کو شہدا پیکیج دینے جبکہ زخمی طلبہ کو مفت طبی سہولیات اور مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی سکولوں کی عمارتوں کا سٹرکچرل اور فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیر محفوظ سکول عمارتوں کی نشاندہی کرکے مرمت اور حفاظتی اقدامات مکمل ہونے تک ان کا استعمال روکا جائے جبکہ متاثرہ نجی سکول کی رجسٹریشن، منظور شدہ نقشوں اور حفاظتی سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ سکول کی رجسٹریشن، عمارت کی منظوری اور حفاظتی سرٹیفکیٹس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے جبکہ سکول کی عمارت مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں اور حفاظتی معیار کے مطابق نہ ہونے کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

پشاور ہائیکورٹ بار نے صوبے میں سکولوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے جامع پالیسی اور لازمی حفاظتی معیار نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ غفلت کے ذمہ دار سکول مالکان، انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی کی بھی استدعا کی ہے۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔

Scroll to Top