خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ ہم سب کی بقا کی جنگ ہے، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
ثمر ہارون بلور نے شہدا کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں وہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ٹیم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ گورنر کی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، تاہم پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔
پولیس اور سی ٹی ڈی ہمارے ہیروز ہیں، انہیں جدید اسلحہ، حفاظتی آلات، جدید گاڑیاں اور ضروری دفاعی نظام فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ثمر ہارون بلور نے باجوڑ سمیت صوبے کے محروم علاقوں کے بچوں کو جدید تعلیم اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز اور تعلیمی سہولیات کے منصوبوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اضاخیل گندم اسکینڈل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی، تحقیقات جلد سامنے لائیں گے، گورنر خیبرپختونخوا کا اعلان
انہوں نے کاہ کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے مسائل پر تفصیلی گفتگو سنی جبکہ صوبے میں آمدورفت اور رابطوں کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔
شہر کی سڑکوں کی خراب صورتحال پر بات کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں اور مختلف مقامات پر کھدائی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ واضح نہیں کہ سڑکیں گیس فراہم کرنے والے اداروں نے کھودی ہیں یا تعمیراتی اداروں نے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گورنر نے شہر کی سڑکوں کی فوری بحالی کا معاملہ اٹھایا اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے سے متعلق بات چیت ہوئی۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ اجلاس میں طے پانے والے اقدامات سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا، جبکہ شہدا کے خاندانوں کی معاونت، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور شہری مسائل کا حل اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔





