خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مسلسل 13 سالہ اقتدار کے دوران صوبے کو کس بے دردی سے پسماندگی اور بدامنی کے گڑھے میں دھکیلا گیا،اس کا خمیازہ اب تک وہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔
تاہم اب موجودہ وفاقی حکومت نے کے پی کے کی تباہ حال معیشت اور سیکیورٹی کی ناگفتہ بہ صورتحال کو سدھارنے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھا لیا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے تحت خیبرپختونخوا میں قیامِ امن اور تعمیر و ترقی کے لیے160 ارب روپے کی خطیر رقم فوری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی رہنما نے حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف کی نااہل اور نالائق گورننس نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا تھا اور ان کے دورِ اقتدار میں ترقی کا پورا سفر جمود کا شکار ہو گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے 12 سالہ طویل دور کے باوجود کے پی کے کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہے اور ان کے بے شمار ترقیاتی منصوبے ادھورے اور دھرے کے دھرے رہ گئےموجودہ ذمہ دار انتظامیہ نے اب اس طویل غفلت اور نااہلی کا ازالہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ یہ 160 ارب روپے کی رقم عام این ایف سی ایوارڈ کے فنڈز سے بالکل ہٹ کر اور اضافی ہے جسے وفاق نے بالخصوص کے پی کے کے عوام کی بہتری کے لیے مختص کیا ہے۔
اس رقم کو انتہائی شفاف انداز میں تین اہم شعبوں میں خرچ کیا جائے گا:
کے پی کے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ صوبے کا نظم و نسق خود سنبھال سکے۔صحت، تعلیم اور سینی ٹیشن کے تباہ حال نظام میں انقلابی اصلاحات لائی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے نامکمل چھوڑے گئے تمام ترقیاتی پروجیکٹس کو اب موجودہ دانشمندانہ حکمت عملی کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
موجودہ وفاقی حکومت نے اپنی مؤثر اور بہترین کارکردگی کا لوہا منواتے ہوئے ایک ایسا ماسٹر پلان ترتیب دیا ہے جو پی ٹی آئی کی طویل ناکامیوں پر بھاری ہے۔
اس پلان کے تحت اگلے 6 ماہ کے اندر خیبرپختونخوا کے 12 حساس اضلاع کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے گا۔ تمام آپریشنز خالصتاً انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے تاکہ کسی بھی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمٰن خیبر پختونخوا کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، دہشت گردی پر دو رنگی چھوڑ کر واضح مؤقف اپنائیں: طارق فضل چودھری
پی ٹی آئی کے دور میں جس طرح عوام کو دربدر ہونا پڑتا تھا اس کے برعکس اب مقامی آبادی کو کسی قسم کی نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی۔ علاقوں کے کلیئر ہوتے ہی ان کا نظم و نسق فوری طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔
موجودہ انتظامیہ نے ثبوت دے دیا ہے کہ سنجیدہ قیادت اور بہترین حکمرانی ہی صوبے کو ترقی کی راہ پر واپس لا سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کی طویل نالائقیوں کا بوجھ اٹھانے والے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے اب امن اور ترقی کے ایک نئے اور روشن دور کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔





