خیبرپختونخوا کے مخصوص اضلاع میں محکمہ صحت کی تمام بھرتیاں روکنے کا حکم

پشاور: خیبرپختونخوا کے مخصوص اضلاع میں محکمہ صحت کے تحت تمام اقسام کی بھرتیوں کا عمل فوری طور پر روکنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ 

ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ سروسز، ڈیزگنیٹڈ ڈسٹرکٹس کی جانب سے 22 اکتوبر 2026ء کو جاری اعلامیے میں ضلعی ہیلتھ افسران اور ڈسٹرکٹ و تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو بھرتیوں سے متعلق تمام کارروائیاں معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایات کی روشنی میں مخصوص اضلاع کے محکمہ صحت کے دفاتر اور طبی مراکز میں نئی بھرتیوں کا آغاز، جاری عمل کی تکمیل یا تقرریوں سے متعلق کسی بھی کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس ضمن میں پہلے سے جاری بھرتیوں کے تمام مراحل بھی فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ بھرتیوں کے لیے جاری کردہ اشتہارات، ٹیسٹ، انٹرویوز اور میرٹ لسٹوں کی تیاری سمیت تمام متعلقہ سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ مزید احکامات آنے تک کسی امیدوار کو تقرری کا خط جاری نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی نئی تعیناتی یا جوائننگ کی اجازت ہوگی۔

اعلامیے میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ افسر یا اہلکار پر عائد ہوگی اور اس کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ محکمہ صحت نے ان ہدایات کو فوری نوعیت کا قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ

یہ احکامات مخصوص اضلاع کے تمام ضلعی ہیلتھ افسران اور ڈی ایچ کیو و ٹی ایچ کیو اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ارسال کیے گئے ہیں۔ اعلامیے کی نقول سیکریٹری تعلیم و سماجی شعبہ، ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کو بھی بھجوا دی گئی ہیں۔

اعلامیے میں بھرتیوں پر پابندی کی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ اسی طرح سابقہ بھرتیوں میں کسی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی۔

لہٰذا اس اقدام کو کسی مخصوص انتظامی ناکامی یا بدعنوانی کے خلاف کارروائی قرار دینے کے لیے مزید سرکاری وضاحت ضروری ہوگی۔

فی الحال پابندی کا اطلاق محکمہ صحت کے مخصوص اضلاع کے دفاتر اور طبی مراکز پر ہوگا۔ بھرتیوں کا عمل دوبارہ شروع کرنے سے متعلق فیصلہ آئندہ احکامات سے مشروط ہے، جبکہ پابندی کی مدت اور اس کے خاتمے کے حوالے سے اعلامیے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔

Scroll to Top