صوابی : صوابی کے تاریخی علاقے پنج پیر اور ٹوپی میںمیڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے بہتر مستقبل، امن کی بحالی اور وفاق کے ساتھ ہم آہنگی کا نیا منشور پیش کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کی خوش قسمتی ہے کہ اب تمام اہم ادارے اور صوبائی سیٹ اپ ایک پیج پر آ چکے ہیں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ ہمارا صوبہ کسی صورت وفاق سے کٹ کر یا محاذ آرائی کے ذریعے نہیں چل سکتا اور خیبر پختونخوا کے درپیش تمام معاشی، انتظامی و سیکیورٹی مسائل کا پائیدار حل صرف اور صرف وفاق کے ساتھ مضبوط اور تعميراتی تعلقات قائم کرنے میں ہی ممکن ہے۔
سابقہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی کا ذکر کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا کہ جب تحریکِ انتشار کی وفاق میں حکومت نہیں تھی تو ان کی غلط پالیسیوں اور ضدی رویے کے باعث صوبے اور وفاق کے درمیان بلاوجہ کے شدید تنازعات پیدا کیے گئے جس کا خمیازہ صرف عوام کو بھگتنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : 90 روز میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کا منصوبہ، 80 ہزار روپے سبسڈی کی تجویز
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی بنیادی ترجیح وفاق اور پاکستان کے دیگر تمام صوبوں کے ساتھ برادرانہ، خوشگوار اور مضبوط تعلقات استوار کرنا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق اور ترقیاتی فنڈز کو بلا تعطل حاصل کیا جا سکے۔
تعلیم، صحت اور تمام اہم حکومتی اداروں میں اصلاحاتی انقلاب لانا وقت کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے بلا تاخیر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
امن و امان اور تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی اور خوارج کے خلاف پوری قوم کو مل کر فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی اور اس مقصد کے لیے چھ مہینے کا وقت بھی بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرائی نیشن ون ڈے سیریز، سفیان مقیم اسکواڈ سے ریلیز، معاذ صداقت شامل
تجاوزات کے خلاف ایکشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارروائی مکمل طور پر قانون کے عین مطابق ہونی چاہیے اور قانون کی پاسداری کا آغاز وہ پہلے خود پر لاگو کر کے کریں گے۔ انہوں نے صحافتی آزادی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنقید برائے اصلاح میڈیا کا جائز اور آئینی حق ہے جسے کھلے دل سے تسلیم کیا جاتا ہے۔





