موٹروے پر فیملیز غیر محفوظ، کوہستان وحید ٹریولز کے 20 غنڈوں کا پختون ڈیجیٹل کے رپورٹر اور ان کی فیملی پر دھاوا، رات 10 بجے کا واقعہ، موٹروے پولیس 12 گھنٹے بعد بیدار

اسلام آباد:  ایم 4 موٹروے پر بہاولپور سے اسلام آباد سفر کرنے والے سینئر صحافی زیاد علی شاہ اور ان کی اہلیہ معروف صحافی رشنا ضمیر کے ساتھ سیکیورٹی کا انتہائی سنجیدہ اور خوفناک واقعہ پیش آیا ہے، جس نے قومی شاہراؤ ں اور موٹرویز پر شہریوں کی حفاظت کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق واقعہ رات تقریباً 10:00 بجے فیصل آباد کے قریب ایم 4 موٹروے کے سنگل لین حصے پر پیش آیا۔

کوہستان وحید ٹریولز کی/بس (نمبر TAU-010) کا ڈرائیور مسلسل ہیڈ لائٹس جلا کر گاڑی کو دباؤ میں لاتا رہا۔ موقع ملتے ہی بس ڈرائیور نے صحافی زیاد علی شاہ کی گاڑی کو سائڈ سےٹکر ماری، آگے جا کر بس روک دی اور گاڑی کا راستہ بلاک کر دیا۔

بس سے ڈرائیور سمیت 15 سے 20 مسلح و غنڈہ عناصر نیچے اترے اور کار میں سوار 3 افراد (زیاد علی شاہ، ان کی زوجہ صحافی رشنا ضمیر اور ایک اور مرد) کو گھیر کر تشدد اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

صحافی خاندان نے کسی طرح حکمتِ عملی سے جان بچائی، لیکن یہ سنسنی خیز ڈرامہ یہی ختم نہ ہوا، بلکہ بس ڈرائیور نے تعاقب جاری رکھا اور سیال ریسٹ ایریا تک گاڑی کا پیچھا کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں : سرکاری زمینوں پر قائم ناجائز سلطنتیں زمین بوس، ڈی آئی خان میں گرینڈ آپریشن سے قبضہ مافیا کا صفایا

واقعے کے سب سے تشویشناک پہلو کے مطابق متاثرہ خاندان نے رات 10 بجے سے لے کر اگلے دو گھنٹے کے دوران موٹروے پولیس سے 3 مرتبہ رابطہ کیا، مگر ہر بار کیس رجسٹر نہ ہونے کا روایتی اور سرد مہری پر مبنی جواب دے کر شہریوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔

موٹروے پولیس کی عدم توجہی کا عالم یہ ہے کہ رات 10:00 بجے پیش آنے والے اس خوفناک حادثے اور غنڈہ گردی کے پورے 15 گھنٹے بعد (اگلے دن دوپہر 1:00 بجے کے بعد) آفیسرعاصمہ نقوی نے متاثرہ صحافی سے رابطہ کیا۔

اس واقعے نے موٹروے پولیس کے 1300 ہیلپ لائن اور شہریوں کی حفاظت کے بلند و بانگ دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 اگر رات کی تاریکی میں مسلح ہجوم کسی بڑے سانحے یا جانی نقصان کا سبب بن جاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ کیا شاہراؤ ں پر خواتین اور خاندانوں کا سفر اب صرف نام کا محفوظ رہ گیا ہے؟

Scroll to Top