اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گندم کی مصنوعی قلت اور آٹے کی آسمان چھوتی قیمتوں سے پسنے والی عوام کو بڑی راحت کی خبر سناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر گندم اور آٹے کی قیمتیں مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام کو نوید سنائی اور واضح کیا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے بلکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مکمل طور پر مصنوعی اور کچھ منافع خور عناصر کی منڈی میں ناجائز مداخلت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 40 سال کی طویل مدت کے بعد ایک جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دے دی ہے، جس کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت اور مکمل اتفاقِ رائے سے گندم کی سرکاری قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے تاکہ کسانوں کے معاشی مفادات کا مکمل تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ حکمرانی کے باوجود تعلیمی نظام تباہ، 627 سرکاری اسکول بند
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں گندم کے وافر اور تسلی بخش ذخائر موجود ہیں، لہٰذا عوام کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے، جبکہ رواں سال گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک کے اسٹریٹجک ذخائر ہر صورت برقرار رکھے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت نے باہر سے مہنگی گندم درآمد کرنے کے بجائے اپنے مقامی کسانوں سے گندم کی خرید کو ترجیح دینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے تاکہ ملکی زراعت اور کسان خوشحال ہو سکیں۔
وفاقی حکومت کے ان اقدامات سے جہاں آٹے کی قیمتوں میں سستائی کی امید پیدا ہوئی ہے، وہیں کسانوں کو بھی ان کی فصل کا مناسب معاوضہ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔





