پشاور: ماہر عالمی امور ڈاکٹر منہاس مجید نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا، وہاں کوئی نہ کوئی دیرپا مسئلہ چھوڑ دیا گیا۔ کشمیر، فلسطین، اور مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی خطے آج انہی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ڈاکٹر منہاس مجید کا کہنا تھا کہ برصغیر کے لیے مسئلہ کشمیر چھوڑا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ آج تک خونریزی کا سبب بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک پر بھی اسرائیل کی مداخلت رہی ہے، اور امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی پشت پناہی کی ہے، جس کا نتیجہ ان ممالک میں جاری خانہ جنگیوں کی صورت میں نکلا۔
اقوام متحدہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر منہاس مجید مروت نے کہا کہ یہ ادارہ بظاہر عالمی امن کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر حقیقت میں یہ طاقتور ممالک کے مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق پر حملے کے وقت صدر بش نے اقوام متحدہ کو نظر انداز کیا، اور اب ایران پر حملے کے لیے صدر ٹرمپ نے نہ صرف اقوام متحدہ کو بائی پاس کیا بلکہ امریکی کانگریس کو بھی خاطر میں نہ لایا۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر منہاس نے کہا کہ ایران واحد ملک تھا جس نے امریکہ اور اسرائیل کو کھلے عام چیلنج کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنا ایک بھیانک غلطی ہوگی، امریکا کا انتباہ
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ہمیشہ سے ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے اور اسے کمزور کرنے کے لیے سرگرم رہا ہے تاکہ خطے میں اپنا تسلط قائم رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں دوہرے معیار ترک کریں اور اقوام متحدہ کو اس کے اصل کردار کے مطابق آزاد اور مؤثر ادارہ بنایا جائے۔





