18ویں ترمیم ایک خاموش انقلاب ہے، اسے چھیڑنا پاکستان کی بقا کو چھیڑنے کے مترادف ہے، میاں افتخار حسین

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے واضح کیا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک خاموش انقلاب ہے اور اسے چھیڑنا پاکستان کی بقا سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اے این پی 18ویں اور 25ویں آئینی ترامیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہر سطح پر مزاحمت کرے گی۔

میاں افتخار حسین نے الزام عائد کیا کہ ملک کے وسائل پر امریکی خوشنودی کے تحت قبضہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مائنز اینڈ منرلز بل 2025 کو پشتونوں کے قدرتی وسائل پر بیرونی طاقتوں، بالخصوص امریکہ کی مرضی کے مطابق کنٹرول حاصل کرنے کی سازش قرار دیا۔

انہوں نے کہا جب ہم اپنے وسائل کی بات کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا کی سستی ترین بجلی ہم بناتے ہیں، مگر سب سے مہنگی بجلی ہمیں دی جاتی ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔

اے این پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ امیر مقام کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کا اصل مقصد 18ویں ترمیم کا خاتمہ ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کی فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ختم کر کے اُسے فیڈرل فورس میں تبدیل کردیاگیا ، جو ناقابل قبول ہیں۔

میاں افتخار نے سوال اٹھایاصرف پختون ہی کیوں قربان ہوں؟ اگر وفاق کو فورسز کی ضرورت ہے تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے بھی اہلکار لائے جائیں۔

مولانا خانزیب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے گڑھ میں یہ قتل ہوا، مگر نہ قاتل سامنے آیا اور نہ ہی سی سی ٹی وی کیمروں کی کوئی فوٹیج دستیاب ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اے این پی اب تک اپنے 1200 کارکنان کی قربانی دے چکی ہے، لیکن اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا۔

میاں افتخار نے کہا کہ باچا خان، ولی خان اور اسفندیار ولی خان نے پشتون قوم کو علم، شعور اور خودمختاری کا راستہ دکھایا، اور 18ویں ترمیم کے ذریعے قوم کو اپنے وسائل پر آئینی اختیار ملا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،میاں افتخار حسین

انہوں نے خبردار کیا کہ نئی سازشوں کے ذریعے اس اختیار کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا اے این پی ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ ماضی کی ان عالمی سازشوں کا تسلسل ہے، جنہوں نے کبھی روس اور امریکہ کی جنگ اور اب چین و امریکہ کی کشمکش کے لیے ہماری سرزمین کو میدانِ جنگ بنایا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں گے اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

Scroll to Top