ایشیا کپ ٹرافی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی کے خلاف دبئی میں ’’ٹرافی چوری‘‘ اور ’’زبردستی قبضے‘‘ کی شکایت درج کرانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، بی سی سی آئی نے محسن نقوی کو ٹرافی کی واپسی کے لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ بھارتی بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے دبئی میں اے سی سی اجلاس کے دوران محسن نقوی سے ٹرافی کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تاہم محسن نقوی نے اسے اجلاس کے ایجنڈے سے باہر قرار دیتے ہوئے ٹرافی دینے سے انکار کر دیا۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں بھارتی میڈیا کو جھوٹا اور پروپیگنڈا پھیلانے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا’’میں نے کچھ غلط نہیں کیا، بی سی سی آئی سے نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی کبھی مانگوں گا۔ اگر بھارتی ٹیم کو ٹرافی چاہیے، تو اے سی سی کے دفتر آ کر لے جائے، میں خوش آمدید کہوں گا۔‘‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وہ ایشیا کپ کے فائنل والے روز خود ٹرافی دینے کے لیے اسٹیڈیم میں موجود تھے، لیکن بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹرافی لینے سے انکار کیا گیا، جس کی وجہ سے تقریب تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی۔ بعد ازاں، ٹرافی اسٹیڈیم سے واپس دفتر لے جائی گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور بی سی سی آئی اس معاملے کو جان بوجھ کر سیاسی رنگ دے رہے ہیں، جس سے کرکٹ کی غیر جانبداری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے بقول’’بھارت کھیل کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے، جو کھیل کی اصل روح کے خلاف ہے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق، بھارتی کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر ایشیا کپ ٹرافی کے ساتھ جعلی تصاویر شیئر کر کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، تاہم متعدد تجزیہ کار اور شائقین نے ان تصاویر پر سوالات اٹھائے ہیں۔سابق بھارتی کرکٹرز کپل دیو اور سید کرمانی بھی اس تنازع پر بول پڑے، اور کہا کہ کرکٹ جیسے عظیم کھیل کو سیاست سے آلودہ کرنا ایک افسوسناک عمل ہے۔





