اگر بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار برقرار رکھا تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے متبادل کے طور پر سکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹیم رینکنگ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں اکثریتی ڈائریکٹرز نے بنگلہ دیش کے انکار کی صورت میں متبادل ٹیم شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں موجود 15 ڈائریکٹرز میں سے صرف پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مؤقف کی حمایت کی۔
یہ بورڈ اجلاس پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے منگل کے روز آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز کو لکھے گئے خط کے بعد بلایا گیا تھا، جس میں پی سی بی نے سکیورٹی خدشات کے معاملے پر بی سی بی کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی ٹیم کو زبردستی کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
آئی سی سی بورڈ اجلاس میں تمام فل ممبر ممالک کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت آئی سی سی چیئرمین جے شاہ نے کی، جبکہ دیگر شرکاء میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام، بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیوا جیت سائیقیا، سری لنکا کرکٹ کے صدر شمی سلوا، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی، کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ، زمبابوے کرکٹ کے صدر تاوینگا موکُہلانی، ویسٹ انڈیز کرکٹ کے صدر کشور شیلو، کرکٹ آئرلینڈ کے چیئرمین برائن میک نیس، کرکٹ نیوزی لینڈ کے نمائندے راجر ٹووز، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامسن، کرکٹ جنوبی افریقہ کے نمائندے محمد موساجی اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین میرواعش اشرف شامل تھے۔
اس کے علاوہ دو ایسوسی ایٹ ممبر ڈائریکٹرز مبشر عثمانی اور مہندا ولی پورم، آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجوگ گپتا، ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور جنرل منیجر گوروو سکسینہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔
آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ اینڈریو ایفرگریو بھی اجلاس کا حصہ تھے، جو گزشتہ ہفتے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے بالمشافہ ملاقاتیں کر کے سکیورٹی خدشات دور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی حتمی فیصلہ سازی کے بعد ہی آئی سی سی آئندہ لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کرے گی، تاہم سکاٹ لینڈ کی ممکنہ شمولیت نے ورلڈ کپ کے منظرنامے میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔





