تہران : اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق یہ انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس (مجلسِ خبرگان) کی جانب سے کیا گیا، تاہم ایران کے سرکاری حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق تاحال نہیں کی گئی ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر اسمبلی آف ایکسپرٹس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ اسمبلی 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
اسمبلی کے ارکان ہی سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ووٹ دیتے ہیں، اور اس کا فیصلہ ایران کی آئینی حدود اور مذہبی فریم ورک کے مطابق ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کی تدفین تہران میں بڑے تعزیتی اجتماع کے بعد مشہد میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای حملے میں شہید ہو گئے، امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران میں تعزیتی اجتماع امام خمینی ہال میں منعقد کیا جائے گا، جس میں اعلیٰ حکومتی اور مذہبی شخصیات شریک ہوں گی۔
واضح رہے کہ یہ دعویٰ ابھی اسرائیلی میڈیا تک محدود ہے اور ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ایرانی حکام نے تاحال مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب یا اس حوالے سے کسی قسم کا سرکاری اعلان نہیں کیا ہے۔





