اسلام آباد: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات انتہائی مفصل، سنجیدہ اور مختلف چیلنجز سے بھرپور تھے، جن میں ایران نے نیک نیتی کے ساتھ اپنی بہترین تجاویز پیش کیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کچھ اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں میں بہتری کی علامت ہے۔
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اب امریکا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد بحال کرنے اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکا نے گزشتہ ایک سال کے دوران دو مرتبہ ایران پر حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات کوئی وقتی واقعہ نہیں بلکہ مستقل سفارتی عمل ہے، ایرانی سفیر
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا واقعی تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو اسے پہلے ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ محض بیانات کافی نہیں ہوں گے۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ امریکی دھمکیوں کا ایرانی عوام پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور ایران اپنی قومی پالیسیوں اور مفادات پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرتا۔





